Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر خدا مہربان ہوگا عرش بریں پر اس معاملہ کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ اس کو انتہائی ذاتی مسئلہ کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یرحم الله من لا یرحم الناس۔ یعنی، اللہ اس انسان پر مہربانی نہیں کرے گا جو دوسرے لوگوں پر مہربانی نہ کرے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7376)۔ عدل وانصاف انسانیت کا ایک نہایت اہم تقاضا یہ ہے کہ آدمی لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے عدل و انصاف سے کام لے۔ وہ کسی حال میں بھی ظلم اور بے انصافی کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ چنانچہ اسلام میں شدت کے ساتھ عادلانہ رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بے شک اللہ حکم دیتا ہے عدل کا اور احسان کا (16:90) دوسری جگہ فرمایا کہ کہو کہ میرے رب نے مجھے قسط کا حکم دیا ہے (7:29) قسط اور عدل کی مادی علامت ترازو ہے۔ جس طرح ترازو کسی چیز کو ٹھیک ٹھیک باٹ کے مطابق تول دیتا ہے۔ اسی طرح آدمی کا قول وعمل بھی ہونا چاہیے۔ آدمی کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ پوری طرح منصفانہ روش اختیار کرے۔ جب وہ بولے تو اس کا بول حقیقت کے ترازو میں تلا ہوا ہو۔ قرآن میں بار بار حکم دیا گیا ہے کہ اجتماعی معاملات کو ہمیشہ عدل وانصاف کے مطابق طے کرو۔ مثلاً فرمایا کہ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو (4:58) اسی طرح فرمایا کہ معاملات میں جب بولو تو انصاف کی بات بولو (الانعام، 152: 6) اسی طرح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page