نفع بخشی
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
نفع بخشی قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا کو اس کے بنانے والے نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں جماؤ اور ٹھہراؤ صرف اس کو ملتا ہے جو نفع بخشی کا ثبوت دے: َوَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ (13:17)۔ اس دنیا کی ہر چیز اسی اصول پر بنائی گئی ہے۔ اس دنیا میں کوئی چیز صرف اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنی ہوئی ہو۔ جب کوئی چیز اپنی نفع بخشی کھودے تو اس کے بعد وہ زندگی کا حق بھی کھو دیتی ہے۔ اس کے بعد فطرت کا نظام اس کو غیر مطلوب قرار دے کر اسے باہر پھینک دیتا ہے۔ اسی نظام فطرت کو خدا نے انسان کے لیے بھی پسند کیا ہے (آل عمران، 3:83) خدا کا مطلوب انسان وہ ہے جو اس دنیا میں ایک نفع بخش وجود بن کر رہے۔ جو حقیقی معنوں میں دینے والا بن جائے۔ جس سے دوسروں کو وہ چیز مل رہی ہو جو انھیں اپنی زندگی اور بقا کے لیے درکار ہے۔ ایسا ہی انسان یہ حق رکھتا ہے کہ اس کو انسان کہا جائے۔ ایسا ہی انسان اس کا مستحق ہے کہ اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں کامیابی اور ترقی کا فیصلہ کیا جائے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکے تو وہ ضرور اس کو فائدہ پہنچائے: مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2199)۔ نفع بخش بننے کے لیے اس کی ضرورت نہیں کہ آدمی بہت زیادہ اسباب و وسائل کا مالک ہو۔ ہر آدمی اپنے امکان کے دائرہ میں دوسرے کے لیے نفع بن سکتا ہے۔ مثلاً کسی کے حق میں خیر خواہی کا ایک کلمہ بھی اس کو نفع پہنچانا ہے۔ اسی طرح کسی کو ایک اچھا مشورہ دینا، کسی کا بوجھ اٹھا دینا، کسی کے کام میں اپنی مدد شامل کر دینا، کسی بھٹکے ہوئے کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader