دینِ انسانیت
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
راستہ دکھا دینا، بقدر وسعت کسی کی مالی مدد کرنا، راستہ کی رکاوٹوں کو دور کرنا، وغیرہ سب نفع بخشی میں شامل ہیں۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص کسی بھی قسم کی مدد پہنچانے کی پوزیشن میں نہ ہو تو وہ اپنے بھائی کے حق میں نیک دعا کرے۔ یہ بھی اس کی طرف سے نفع پہنچانے کا ایک کام ہوگا۔ سچائی قرآن (الاحزاب) میں اہل ایمان کو سچ بولنے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں: وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ (33:35)۔ کہا گیا ہے۔ یہ کسی مرد یا کسی عورت کی نہایت اعلیٰ انسانی صفت ہے کہ جب وہ بولے تو ہمیشہ سچ بولے۔ وہ اپنی زبان سے کبھی سچ کے خلاف کوئی بات نہ نکالے۔ یہی استبازانہ کردار کسی انسان کے شایانِ شان ہے۔ اس سلسلہ میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں جو سچ کی اہمیت کو بتاتی ہیں۔ مثلاً ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عَلَيْكُمْ بِالصَّدْقِ فَإِنَّ الصَّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر (2607۔ یعنی تم ہمیشہ سچ بولو، کیوں کہ سچ بولنا آدمی کو نیکی کی طرف لے جاتا ہے۔ اور تم جھوٹ بولنے والے سے بچو، کیونکہ جھوٹ بولنا آدمی کو برائی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس حدیث میں سچ بولنے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور اسی کے ساتھ اس کی حکمت بھی بتادی گئی ہے۔ جب آدمی سچ بولنے کا اہتمام کرتا ہے تو اس کے اندر سچائی والی شخصیت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے مزاج اور اس کی سوچ پر سچائی کا رنگ غالب آجاتا ہے۔ اس کے اندر ایک ایسی روح پرورش پاتی ہے جو نفسیاتی پیچیدگی کی خرابیوں سے پاک ہو۔ اس طرح سچ بولنے کی صفت اس کو ہر اعتبار سے ایک سچا انسان بنا دیتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader