سنت رسول
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
سنتِ رسول ہماری اس گفتگو کا موضوع سنتِ رسول ہے۔ رسول کی سنت دین میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ آپ کا قول اور آپ کا عمل تمام مسلمانوں کے لیے معیار اور نمونہ ہے۔ ہم کو اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں آپ کے طریقہ کی پیروی کرنی ہے۔ ہم کو ہر معاملہ میں آپ کا مقلد بننا ہے۔ سنتِ رسول کی پیروی ہی میں دنیا کی کامیابی کا راز بھی ہے اور سنتِ رسول کی پیروی ہی میں آخرت کی کامیابی کا راز بھی۔ اس بات سے تمام مسلمانوں کو اتفاق ہے۔ اس میں مسلمانوں کے درمیان دو رائے نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت دین میں حجت کی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر یہ سوال کہ خود سنت کیا ہے۔ اس بارے میں شعوری یا بغیر شعوری طور پر مسلمانوں کے درمیان زبردست غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے سنت ہر اس طریقہ کا نام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔ جو آپ نے کہا یا کیا ہو۔ مگر عملاً صورتِ حال یہ ہے کہ مسلمانوں نے سنت کی ایک خود ساختہ فہرست بنالی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی بعض نسبتاً ضمنی اور فرعی چیزوں کو انھوں نے اپنی فہرست سنت میں لکھ لیا ہے۔ جو لوگ ان کا اہتمام کرتے ہیں وہ متبعِ سنت کہے جاتے ہیں۔ حالاں کہ سنت کی اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ سنت کے اتباع سے بہت دور ہوتے ہیں۔ یہاں میں ایک مثال دیتا ہوں جس سے اس بات کی بخوبی وضاحت ہو جاتی ہے۔ ایک حدیث کتابوں میں ان الفاظ میں آئی ہے: عن ام سلمة ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ كان في بيتها فدعی وصيفة له اولها فابطأت علیہ وسلم ان کے گھر میں تھے۔ پھر آپ نے ایک خادمہ فاستبان الغضب في وجهه فقامت کو بلایا جو آپ کی تھی یا حضرت ام سلمہ کی تھی۔ خادمہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader