Urdu book · دین کامل

سنت رسول

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

ام سلمة الى الحجاب فوجدت الوصيفة نے آنے میں دیر کی تو آپ کے چہرے پر عغصہ ظاہر ہوگیا تلعب ومعہ سواك فقال لولا خشية اس کے بعد حضرت ام سلمة اٹھیں اور پردے کے پاس القوديوم القيامة لا رجعتك بهذا جاکر دیکھا تو انھوں نے پایا کہ خادمہ کھیل رہی ہے۔ السواك اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں (الادب المفرد، باب قصاص العبد، صفحه ۲۹) ایک مسواک تھی ۔ آپ نے خادمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اگر قیامت کے دن مجھے بدلے کا ڈر نہ ہوتا تو میں تجھ کو اس مسواک سے مارتا ۔ اس روایت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت گھر میں بیٹھے ہوئے تھے اس وقت آپ کے ہاتھ میں مسواک تھی ۔ اس سے کچھ لوگوں نے یہ نکالا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا زیادہ محبوب تھی کہ آپ ہر وقت اس کو اپنے پاس رکھتے تھے ۔ چنانچہ ان لوگوں نے اتباع سنت کے جذبے کے تحت یہ اہتمام کیا کہ مسواک کو اپنی جیب میں رکھنے لگے تاکہ جب بھی وضو کرنا ہو فورا امواک لے کر سنت کی تعمیل کر سکیں ۔ ایک بار بھی ان سے مسواک کی سنت چھوٹنے نہ پائے ۔ مسواک کا یہ اہتمام بذات خود کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ۔ یقیناً مسواک سنت ہے حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : لولا ان اشق علی امتی لا مرتھم بالسواک (اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ان کو مسواک کرنے کا حکم دے دیتا ) ، اس بنا پر کوئی شخص مسواک کا اہتمام کرے تو وہ یقیناً سنت کا اتباع کرے گا ۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ روایت میں صرف اسی ایک بات کا ذکر ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ روایت میں اسی کے ساتھ ایک اور سنت کا ذکر بھی موجود ہے ۔ مگر لوگوں نے ایک سنت کو لیا اور دوسری سنت کو چھوڑ دیا ۔ اور بدقسمتی سے انھوں نے جس چیز کو اہمیت نہ دی وہی آپ کی اہم ترین سنت تھی ۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کا حال اس شخص کا سا ہوا ہے جس کے پاس ایک پھل ہو اور وہ اس پھل کے چھلکے کو لے اور اس کے مغز کو الگ کر کے پھینک دے ۔ اس روایت پر غور کیجئے ۔ اس میں دو باتوں کا ذکر ہے ۔ ایک یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے اس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک مسواک تھی ۔ روایت کا دوسرا جز یہ ہے کہ آپ کو اپنی خادمہ سے شکایت ہوئی ۔ آپ کا جی چاہا کہ آپ اس کو مسواک سے ماریں مگر آپ کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page