Urdu book · دین کامل

ایمان

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمی کو لرزاد دیتا ہے ۔ خدا کی ہیبت سے اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کی آواز پست ہو جاتی ہے۔ اس کے چلتے ہوئے قدم رک جاتے ہیں ۔ اس کی زندگی ایسی پابند زندگی بن جاتی ہے جیسے خدا اس کے رات اور دن کا نگراں بن گیا ہو ۔ بعض مفسرین نے مومنین کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے کہ وہ غیب پر اس طرح یقین رکھتے ہیں جس طرح وہ مشاہدہ پر یقین رکھتے ہیں ۔ (يؤمنون بالغيب كما يومنون بالشهادة) تفسیر ابن کثیر جلد اول ، صفحہ ۴۱ ۔ گویا قیامت میں خدا کو دیکھ کر لوگوں کا جو حال ہوگا وہ حال مومن کا بغیر دیکھے ہوئے اسی دنیا میں ہو جاتا ہے ۔ غیر مومن قیامت میں خدا کو دیکھ کر ڈڑھ پڑیں گے ، مومن اسی آج کی دنیا میں خدا کے سامنے ڈڑھ پڑتا ہے ۔ قیامت میں خدا کے فرشتے لوگوں کو عدالت الہی کی ترازو میں کھڑا کریں گے مومن اسی دنیا میں اپنے آپ کو عدالت الہی کی ترازو میں کھڑا کر لیتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ غیر مومن پر قیامت میں گزرے گا وہ مومن پر اسی دنیا میں گزر جاتا ہے ۔ ۔ اسی زلزلہ خیز تجربہ کا نام ایمان ہے ۔ ایمان ایک اضافہ پذیر حقیقت ہے سورہ ابراہیم میں ایمان اور مومن کو درخت سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ ارشاد ہوا ہے کہ کلمہ ایمان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک ستھرا درخت ۔ اس کی جڑ زمین میں قائم ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں (الم تركيف ضرب الله مثلا كلمة طيبة كشجرة طيبة اصلها ثابت وفرعها في السماء) درخت کی ایک انوکھی خصوصیت یہ ہے کہ وہ برابر بڑھتا رہتا ہے ۔ بیج سے اکٹوا ، اکٹوا سے تنه ، تنه سے شاخیں ، شاخوں سے پত্তیاں اور پھر پورا درخت ۔ یہ خاص صفت جو درخت کو حاصل ہے یہی مومن کی بھی صفت اس دنیا میں ہوتی ہے ۔ وہ ہر آن بڑھتا رہتا ہے ۔ وہ بیج سے شروع ہو کر بڑھتے بڑھتے سر سبز درخت بن جاتا ہے ۔ ایمان کس طرح بڑھتا ہے ۔ اس کے بڑھنے کی صورت بھی وہی ہوتی ہے جو درخت کے بڑھنے کی صورت ہے ۔ درخت زمین اور فضا سے معدنیات گیسیں اور پانی لے کر اپنے وجود کو بڑھاتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page