ایمان
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
ما انزل الی الرسول تری اعینہم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق یقولون ربنا آمنا فاکتبنا مع الشاہدین ، المائدہ ۸۳) مذکورہ اہل ایمان کو جب ایمان کا شعور ملا تو وہ بے اختیار روپڑے۔ رونا کوئی سادہ واقعہ نہیں ۔ یہ اندرونی طوفان کا ایک خارجی اظہار ہے۔ جب حقیقت کا ادراک دل کے تار کو چھیڑتا ہے ، جب ایک عظیم انکشاف سے آدمی کا سینہ پھٹ جاتا ہے ، جب خدا اور بندہ کے اتصال سے بندہ کی تاریک دنیا روشن ہو جاتی ہے ، اس وقت انسان کے دل میں ہیجان خیز جذبات اٹھتے ہیں۔ یہ جذبات اپنے نکاس کے لیے جو راستہ پاتے ہیں ان میں سے ایک آنکھوں کا راستہ ہے۔ آنکھ کے راستہ سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ کر اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ آدمی نے قربتِ خداوندی کا تجربہ کیا ہے۔ آدمی کو اس نعمتِ ربانی کا حصہ ملا ہے جس کو ایمان کہتے ہیں ۔ ایمان خدا کا خوف پیدا کرتا ہے مفسر ابن کثیر نے ایمان کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ الخشیۃ خلاصۃ الایمان (خدا کا خوف ایمان کا خلاصہ ہے ) جلد اول ، صفحہ ۴۱ یہ تفسیر بہت با معنی ہے۔ آدمی جس چیز کا مومن ہو اسی کے لحاظ سے اس کے اندر کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً آپ چیونٹی کی موجودگی کا اقرار کریں تو اس وقت آپ کے اندر جو کیفیت پیدا ہوگی وہ اس سے بالکل مختلف ہوگی جب کہ آپ ایک شیر کی موجودگی کا اقرار کر رہے ہوں۔ چیونٹی کی موجودگی آدمی کے اندر کوئی جاگ پیدا نہیں کرتی ، مگر شیر کی موجودگی کو محسوس کرکے آدمی سر سے پاؤں تک جاگ اٹھتا ہے ۔ میں ایک مرتبہ ایک چڑیا گھر میں تھا ۔ اچانک میں نے دیکھا کہ تمام زائرین تیزی سے باہر کے گیٹ کی طرف بھاگ رہے ہیں ۔ معلوم کیا تو پتہ چلا کہ چڑیا گھر میں یہ افواہ اڑ گئی تھی کہ ایک شیر کٹہرے سے باہر آگیا ہے۔ ابھی کسی نے شیر کو دیکھا نہیں تھا۔ صرف اس کی خبر سے لوگوں کا یہ حال ہو گیا ۔ جب شیر کی موجودگی کو محسوس کرنے پر انسان کا یہ حال ہوتا ہے تو اس شخص کا کیا حال ہوگا جو شیر کے خالق کی موجودگی کو محسوس کرلے ۔ جس کو خالقِ کائنات کی موجودگی Presence کا ادراک ہو جائے ۔ ایمان اگر زندہ ایمان ہو۔ اگر وہ خدا کی ذات پر یقین کے ہم معنی بن گیا ہو تو ایسا ایمان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader