سنت رسول
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
حصہ دوم اس وقت ہم چند حدیثیں پیش کریں گے ۔ ان حدیثوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا تھا، اور زندگی کے مختلف معاملات میں آپ نے ہمارے لیے کیا نمونہ چھوڑا ہے ۔ عن انس قال لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسلم یا بنی ان قدرت ان تصبح وتمسی نے مجھ سے فرمایا اے لڑکے، اگر تو اس پر قادر ولیس فی قلبک غش لاحد فافعل ثم قال ہو کہ تو صبح اور شام اس طرح کرے کہ تیرے دل یا بنی وذلک من سنتی ومن احب سنتی فقد میں کسی کے خلاف کینہ نہ ہو تو ایسا کر۔ پھر آپ احبنی ومن احبنی کان معی فی الجنۃ نے فرمایا کہ اے لڑکے، یہ میری سنت ہے اور جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا۔ رسول کی سنت کا تعلق صرف کپڑا، بال اور مسواک جیسی چیزوں سے نہیں ہے بلکہ ایک آدمی کی زندگی کے پورے رویے سے ہے۔ لوگوں کے درمیان آپ کیسے رہیں، اس کے بارے میں سنت یہ ہے کہ آپ کا دل لوگوں کے بارے میں برے جذبات سے پاک ہو۔ جب بھی ایک آدمی دوسرے آدمیوں کے درمیان رہتا ہے تو طرح طرح کے باہمی معاملات پیش آتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے کے خلاف رنجش اور شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسا ہونا فطری ہے۔ مگر خدا کے رسول کی سنت یہ ہے کہ ایسے جذبات کو اپنے دل میں ٹھہرنے نہ دیا جائے بلکہ انہیں باہر نکال دیا جائے۔ شکایتوں کو نظر انداز کرنا۔ رنجشوں کو بھول جانا، غلطیوں کو معاف کر دینا، تکلیف کو اپنے اوپر سہہ لینا بجائے اس کے کہ اس کو دوسرے کے اوپر ڈالا جائے، یہ پیغمبر کا طریقہ ہے اور جنت انھیں لوگوں کے لئے ہے جو پیغمبر کے طریقہ کو اختیار کریں۔ جو لوگ پیغمبر کے طریقہ کو چھوڑ کر اپنے نفس کی ترغیبات پر چلیں، جو لوگ اپنے سینے کو منفی جذبات سے پاک کرنے کے بجائے اس کو منفی جذبات کا آشیانہ بنائیں ۔ وہ آخرت میں پیغمبروں اور خدا کے نیک بندوں کی آبادی سے دور ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے پیغمبروں اور نیک بندوں کی روش کو اپنے لئے پسند نہیں کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader