Urdu book · دین کامل

سنت رسول

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ کا اندازِ کلام رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کا بولنے کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ہمیشہ واضح انداز میں بولتے تھے اور الفاظ کو ٹھہر ٹھہر کر ادا فرماتے تھے۔ آپ کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بعد کے زمانہ کے لوگوں سے فرمایا : ماكان رسول الله صلّى الله عليه وسلّم رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم تم لوگوں کی طرح تیز تیز يسرُد كسر دكم هذا ۔ ولكن يتكلّم بكلام نہیں بولتے تھے۔ بلکہ آپ کے کلام میں فصل ہوتا بين فصل يحفظه من جلس اليه (زادالمعاد) تھا، آپ کے پاس بیٹھا ہوا آدمی اس کو یاد کر لیتا تھا۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں : انّ رسول الله صلّى الله عليه وسلّم لم يكن رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم اس طرح تیز تیز باتیں نہیں يسرد الحديث كسر دكم ۔ کان یحدث کرتے تھے جیسے تم کرتے ہو۔ آپ اسی طرح بات حديثا لو عدّة العاد لأحصاه (متفق عليه) کرتے تھے کہ اگر گننے والا گنے تو اس کو گن لے۔ مومن کا کلام ایک ایسے شخص کا کلام ہوتا ہے جو اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ مومن کو یقین ہوتا ہے کہ اس کا ہر لفظ فرشتے لکھ رہے ہیں۔ وہ اپنے ہر قول کے لیے خدا کے یہاں جواب دہ ہونے والا ہے۔ مومن کا یہ یقین اس کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کر دیتا ہے۔ وہ جب بولتا ہے تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ خدا اور فرشتوں کے سامنے بول رہا ہے۔ یہ تصور اس کی زبان پر لگام لگا دیتا ہے۔ وہ بولنے سے پہلے سوچتا ہے۔ وہ جب بولتا ہے تو الفاظ تول کر اپنے منہ سے نکالتا ہے۔ خدا کا خوف اس سے تیز کلامی کا انداز چھین لیتا ہے۔ آخرت کی جواب دہی کا احساس اس کی جوش تقریر کے لیے رکاوٹ بن جاتا ہے۔ جو شخص اس قسم کے شدید احساسات سے دبا ہوا ہو وہ آخری حد تک سنجیدہ انسان بن جاتا ہے اور سنجیدہ انسان کی گفت گو کا انداز وہی ہوتا ہے جس کا نقشہ حضرت عائشہ رضی اللہ کی مذکورہ روایت میں نظر آتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page