سنت رسول
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر ایک کو اچھی دعا دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جب کوئی شخص آپ سے اپنے حق میں دعا کے لئے کہتا تو آپ فوراً انھیں الفاظ میں اس کے لئے دعائیہ کلمات کہتے جن الفاظ میں اس نے اپنے لئے دعا کی درخواست کی تھی۔ حضرت ابو ہریرہ رض نے اپنی مشرک ماں کے لئے دعا کی درخواست کرتے ہوئے کہا: اے خدا کے رسول اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ابو ہریرہ کی ماں کو ہدایت دے (ادع اللہ ان يهدى ام ابى هريرة) آپ نے فوراً دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ ابو ہریرہ کی ماں کو ہدایت دے (اللھم اھد ام ابی ھریرہ) نیز حسب موقع اس میں کچھ بہتر الفاظ کے ساتھ اضافہ فرما دیتے۔ ایک بار حضرت ابو ہریرہ نے آپ سے کہا کہ اے خدا کے رسول میرے لئے خدا سے دعا کر دیجئے کہ وہ مجھ کو اور میری ماں کو اپنے مومن بندوں میں محبوب بنا دے (ادع اللہ ان يحببنى وامی الى عباده المومنين) آپ نے فرمایا: اے اللہ ابو ہریرہ اور ان کی ماں کو اپنے مومن بندوں میں محبوب بنا دے اور اپنے مومن بندوں کو ان دونوں کے لئے محبوب کردے (اللھم حبب عبيدك ھذا و امه الى عبادك المومنين وحببھم اليهما) یہ طریقہ آپ کا اچھی دعا کے لئے تھا۔ لیکن اگر کوئی شخص بد دعا کے لئے کہتا تو اس صورت میں آپ کا طریقہ دوسرا ہوتا۔ اب آپ آدمی کی درخواست کے برعکس اس کے لئے بہتری کی دعا کرنے لگتے۔ طفیل بن عمرو الدوسی مکہ میں آپ کے ہاتھ پر اسلام لائے۔ اس کے بعد اپنے وطن واپس جاکر قبیلہ دوس میں تبلیغ کرنے لگے۔ مگر ان کی بیوی کے والد کے سوا کوئی ایمان نہ لایا۔ وہ دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ اے خدا کے رسول ، قبیلہ دوس کے لئے بد دعا فرمائیے۔ آپ نے حضرت طفیل سے کوئی بحث نہ کی بلکہ ان الفاظ میں دعا کرنا شروع کر دیا: اے اللہ قبیلہ دوس کے لوگوں کو ہدایت دے (اللھم اھد دوسا) اس کے بعد حضرت طفیل نے دوبارہ اپنے قبیلہ میں واپس آکر تبلیغ کی تو سب کے سب مسلمان ہو گئے۔ انھیں میں سے ایک حضرت ابو ہریرہ بھی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ واقعات میں جو طریقہ ملتا ہے یہی مومن کا اصل مزاج ہے۔ مومن کے دل میں دوسروں کے لئے خیر خواہی ہوتی ہے۔ اس لئے وہ بھی ایک مومن کے لئے وہی بہتر چیز چاہنے لگتا ہے جس کا وہ مومن خود خواہاں ہو۔ مومن دوسرے کی ہدایت کا حریص ہوتا ہے، اس لئے جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص صحیح راستہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہے تو وہ اس کے خلاف بد دعا نہیں کرتا ۔ بلکہ اس کے حق میں خدا سے یہ درخواست کرتا ہے کہ وہ اس کا سینہ ہدایت کے لئے کھول دے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader