Urdu book · دین کامل

سنت رسول

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

تکلیفوں پر صبر عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا آپ پر ایسا کوئی دن گزرا ہے جو جنگ اُحد کے دن سے زیادہ سخت ہو۔ آپ نے فرمایا: تمھاری قوم سے مجھ کو بہت دکھ پہنچا ہے۔ اور اس کی طرف سے جو سب سے زیادہ شدید چیز مجھے پہنچی وہ عقبہ (طائف) کے دن تھی۔ جب کہ میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یالیل کے سامنے پیش کیا۔ پھر اس نے وہ بات قبول نہ کی جو میں نے چاہا تھا مجھ کو اپنی پناہ میں لینا منظور نہ کیا۔ پھر میں (طائف سے) واپس روانہ ہوا۔ اور میں سخت غم زدہ تھا۔ میں چلتا رہا یہاں تک کہ میں قرن ثعالب پہنچ گیا۔ پھر میں نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو اچانک میں نے پایا کہ ایک بادل میرے اوپر سایہ کئے ہوئے ہے۔ میں نے دیکھا تو اس میں جبریل تھے۔ انھوں نے مجھے پکارا اور کہا: اللہ نے اس قول کو سنا جو آپ کی قوم نے آپ سے کہا ہے اور جس طرح انھوں نے آپ کی بات کا جواب دیا ہے۔ اللہ نے پہاڑوں کے فرشتے کو آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ قوم کے بارہ میں آپ جو کچھ چاہتے ہیں اس کا اسے حکم دیں۔ اس کے بعد پہاڑوں کے فرشتے نے مجھ کو پکارا اور مجھ کو سلام کیا اور کہا : اے محمد ! اللہ نے آپ کے بارے میں آپ کی قوم کے کلام کو سنا۔ میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں۔ میرے رب نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ جو چاہیں اس کا مجھے حکم دیں۔ پھر آپ کیا چاہتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو میں چکی کے دو پاٹ کی طرح ان دونوں پہاڑوں کو ان کے اوپر کردوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، بلکہ مجھے امید ہے کہ ان کی صلب سے اللہ ایسا شخص پیدا کرے جو ایک اللہ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے (بل ارجو ان يخرج اللہ من اصلابہم من يعبد اللہ وحدہ لا یشرک بہ شیئا، متفق علیہ) اس واقعہ سے پیغمبر کا انداز اور طریق کار معلوم ہوتا ہے۔ لوگوں کی طرف سے پیغمبر کو خواہ کتنی ہی تکلیف پہنچے وہ منفی نفسیات میں مبتلا نہیں ہوتا ، اس کے اندر نفرت اور انتقام کا جذبہ نہیں بھڑکتا۔ وہ حال کے بجائے مستقبل کو دیکھتا ہے۔ اس کی نظری سامنے کے واقعات کے بجائے ان واقعات پر ہوتی ہیں جو آئندہ ظہور میں آسکتے ہیں۔ وہ آنے والے بہتر امکان کی امید میں آج کی ناخوش گواریوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ فرد سے تعلق کا معاملہ ہو یا قوموں سے تعلقات کا معاملہ ، ہر معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جذبات سے اوپر اٹھ کر سوچنے اور شکایتوں اور تکلیفوں سے بلند ہو کر معاملہ کرے ۔ ایک حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نکاح میری سنت ہے اور جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں۔ یہی بات یہاں بھی صادق آتی ہے۔ انتقام نہ لینا اور مستقبل کی امید میں حال کی تلخیوں کو نظر انداز کر دینا پیغمبر کی سنت ہے ، اور جو پیغمبر کی سنت سے اعراض کرے وہ پیغمبر سے نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم پیغمبر کی اس سنت پر عمل نہ کریں تو ہم کو نہ پیغمبر کے امتی ہونے کا حق ہے اور نہ پیغمبر کی شفاعت میں حصہ دار بننے کا۔ وہ شخص جس کو آج کی زندگی میں پیغمبر کا طریقہ پسند نہ ہو وہ کل کی زندگی میں پیغمبر کا رفیق کس طرح بن سکتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page