Urdu book · دین کامل

سنت رسول

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

صحابی کی نصیحت اُطْلُبْ قَلْبَكَ فِي ثَلَاثَةِ مَوَاطِنَ عِنْدَ سَمَاعِ الْقُرْآنِ تین مواقع پر تم اپنے دل کو تلاش کرو۔ قرآن سننے کے وقت، وَفِي مَجَالِسِ الذِّكْرِ، وَفِي أَوْقَاتِ الْخَلْوَةِ، فَإِنْ لَمْ ذکر کی مجلسوں میں اور تنہائی کے اوقات میں۔ اگر ان مواقع تَجِدْهُ فِي هَذِهِ الْمَوَاطِنِ فَسَلِ اللَّهَ أَنْ يَمُنَّ عَلَيْكَ پر تم اس کو نہ پاؤ تو اللہ سے دعا کرو کہ وہ تم کو ایک دل دیدے ۔ بِقَلْبٍ فَإِنَّهُ لَا قَلْبَ لَكَ (عبداللہ بن مسعود) کیوں کہ تمھارے پاس دل نہیں ہے۔ انسان کے سینہ میں دل اس لیے رکھا گیا ہے کہ وہ خدا کی تجلیات کا مسکن بنے۔ دل گویا خدا کا گھر ہے۔ اس لیے جب خدا کا کلام پڑھا جائے تو چاہیے کہ انسان کا دل اس سے دہل اُٹھے۔ جب خدا کا چرچا کیا جائے تو دل اس کی عظمت کے احساس سے تڑپ اُٹھے۔ جب آدمی اپنی تنہائیوں میں ہو تو اس کا دل خدا کو اپنا ہم نشین پائے اور اس پر وہ تجربات گزریں جو خدا کی یاد سے قلب انسانی پر گزرتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کا دل زندہ ہے۔ وہ فی الواقع صاحب دل ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا دل مر چکا ہے۔ اس کو وہ دل حاصل نہیں جو خدا کی تجلیات کا مہبط بن سکے۔ وہ لمحات جب کہ دل کے نئے خصوصی طور پر جاگ اُٹھتے ہیں، اس وقت بھی اس کے دل کے تار نہیں جاگتے۔ وہ یاد دلانے والے مواقع جب کہ انسان خدا کے بہت قریب پہنچ جاتا ہے، وہ مواقع بھی اس کو خدا کی یاد دلانے والے ثابت نہیں ہوتے۔ ایسے آدمی کو جاننا چاہیے کہ وہ اپنی سب سے قیمتی متاع (دل) سے محروم ہو گیا ہے۔ اس کو سب سے زیادہ جس چیز کی دعا کرنی چاہیے وہ یہ کہ اس کا رب اس کو دوبارہ ایک دل عطا کر دے۔ یکم مئی ۱۹۸۶

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page