حکمت اسلام
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
حکمت اسلام حافظ ابو خیثمہ زہیر بن حرب النسائی (۲۳۴ - ۱۴۰ھ) نے اپنی کتاب "کتاب العلم" میں ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے : عن ابی عبد الرحمن ان علياً علیہ السلام حضرت ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن حبیب السلمی مرَّ بقاصٍ فقال : اتعرف الناسخ تابعی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک شخص من المنسوخ - قال لا۔ قال هلکْتَ و کے پاس سے گزرے جو لوگوں کو جمع کر کے تقریر کر رہا اهلکت (صفحه ۳۱) تھا ۔ انھوں نے اس سے کہا : کیا تم جانتے ہو کہ منسوخ کیا ہے اور ناسخ کیا۔ مقرر نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا تم خود بھی ہلاک ہوئے اور دوسروں کو بھی ہلاک کیا۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ناسخ اور منسوخ کا لفظ یہاں اس محدود مفہوم میں استعمال نہیں کیا ہے جو موجودہ زمانہ میں عام طور پر سمجھا جاتا ہے، بلکہ اس سے وسیع تر معنوں میں استعمال کیا ہے جو کہ اس لفظ کا حقیقی مفہوم ہے۔ اس وسیع تر مفہوم کے لحاظ سے داعی اور مصلح کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے کہ وہ ناسخ اور منسوخ کے معاملہ کو جانے ۔ جو شخص ناسخ اور منسوخ کے معاملہ کو گہرائی کے ساتھ نہ جانے وہ مصلح نہیں مفید ہے۔ وہ اگر دعوت و اصلاح کے لیے اٹھتا ہے تو یقینی طور پر وہ خود بھی ہلاک ہوگا اور دوسروں کو بھی ہلاک میں ڈالنے کا ذریعہ بنے گا۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ناسخ اور منسوخ کا تعلق چند مخصوص احکام سے ہے اور وہ ابدی ہے۔ مثلاً ہجرت کے بعد تقریباً ڈیڑھ سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ اس کے بعد سورہ بقرہ ( رکوع ۱۷) کی آیات اتریں اور پچھلا حکم منسوخ ہو گیا اور کعبہ کی طرف رخ کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ اسی طرح عام خیال یہ ہے کہ نسخ کے جو احکام ہیں وہ ابدی ہیں جو چیز منسوخ ہے وہ ہمیشہ کے لیے منسوخ ہے۔ اور جو چیز ناسخ ہے وہ ہمیشہ کے لیے ناسخ ہے۔ مگر یہ خیال درست نہیں ۔ ناسخ اور منسوخ کا معاملہ نہ تو چند خاص احکام سے متعلق ہے اور نہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader