Urdu book · دین کامل

حکمت اسلام

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ بولنے کا کمال دکھائیں گے۔ جس موقع کے لیے خدا کا حکم ہوگا کہ خود اپنا احتساب کرو وہاں وہ احتساب اقوام اور احتساب کائنات کا جھنڈا لے کر کھڑے ہو جائیں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں: خود بھی ہلاک ہوئے اور انھوں نے دوسروں کو بھی ہلاک کیا۔ موجودہ زمانہ کے مسلم قائدین تقریبا سب کے سب حضرت علیؓ کے اس قول کے مصداق ثابت ہوئے ہیں وہ " ناسخ اور منسوخ " کی حقیقت سے بے خبر تھے۔ چنانچہ جہاں ناسخ پر عمل کرنا نہ تھا وہاں انھوں نے منسوخ پر عمل کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے ایسے ایسے اقدامات کیے جو غیر حکیمانہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے صرف بربادی کا سبب بنے۔ ۱۸۵۷ء میں علماءِ ہند کا انگریزوں سے جنگ کرنا بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ علماء کے اس فیصلہ کے مطابق ہزاروں مجاہدین تھانہ بھون ( سہارن پور) میں جمع ہو گئے ، اور انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد کی باتیں ہونے لگیں۔ اس وقت صرف ایک عالم ( مولانا شیخ محمد صاحب ) اس مہم کے مخالف تھے۔ اس سلسلہ میں مولانا حسین احمد مدنی نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے : " قصبہ تھانہ بھون میں میاں جی صاحب کے تیسرے خلیفہ مولانا شیخ محمد صاحب رہتے تھے۔ مولانا شیخ محمد صاحب علومِ عربیہ کے باقاعدہ فاضل تھے۔ اس بنا پر مسائلِ شرعیہ میں ہر دو حضرات مولانا شیخ محمد صاحب ہی کا اتباع کرتے تھے۔ بدقسمتی سے مولانا کی رائے یہ تھی کہ انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا ہم مسلمانوں پر فرض تو دور کنار موجودہ احوال میں جائز ہی نہیں۔ اس اختلاف کی بنا پر مولانا رشید احمد صاحب اور مولانا محمد قاسم صاحب کو ان کے اوطان سے دونوں حضرات نے بلوایا۔ جب ہر دو حضرات پہونچ گئے تو ایک اجتماع میں اس مسئلہ پر گفتگو ہوئی۔ مولانا قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ نے نہایت ادب سے مولانا شیخ محمد صاحب سے پوچھا کہ حضرت کیا وجہ ہے کہ آپ ان دشمنان دین و وطن پر جہاد کو فرض بلکہ جائز بھی نہیں فرماتے ۔ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اسلحہ اور آلات جہاد نہیں ہیں ہم بالکل بے سرو سامان ہیں۔ مولانا نانوتوی نے عرض کیا کہ کیا اتنا بھی سامان نہیں ہے جتنا کہ غزوہ بدر میں تھا۔ اس پر مولانا شیخ محمد صاحب مرحوم نے سکوت فرمایا۔" (نقش حیات ، جلد دوم ۱۹۵۴ء صفحہ ۴۱) مولانا شیخ محمد صاحب کی رائے اس معاملہ میں نہایت درست تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ۱۸۵۷ء کے مقابلہ کو بدر کے مقابلہ پر قیاس کرنا صحیح نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر مسلمانوں اور ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page