Urdu book · دین کامل

حکمت اسلام

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

کے مخالفوں کے درمیان اسباب کا جو فرق تھا وہ صرف مقدار کے اعتبار سے تھا نہ کہ نوعیت کے اعتبار سے۔ جب کہ ۱۹ھ کی جنگ کے موقع پر مسلمانوں اور ان کے مخالفوں کے درمیان اسباب کا فرق خود نوعیت کے اعتبار سے پایا جارہا تھا۔ یعنی بدر کے موقع پر تلوار کا مقابلہ تلوار (دستی ہتھیار کا مقابلہ دستی ہتھیار) سے تھاجب کہ ۱۹ھ کے موقع پر تلوار کا مقابلہ بندوق (دستی ہتھیار کا مقابلہ دور مار ہتھیار) سے تھا۔ آپ اسباب کی مقدار میں فرق کو جرات کے اضافہ سے پورا کر سکتے ہیں۔ مگر اسباب کی نوعیت کے فرق کو جرات کے اضافہ سے پورا نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ بدر کے مقابلہ میں مسلمانوں کو کامیابی ہوئی اور ۱۹۸۵ کے مقابلہ میں مخلص اور متقی مسلمانوں کی بے پناہ قربانیوں کے باوجود کامیابی حاصل نہ کی جاسکی ۔ اُس معاملہ کو مزید سمجھنے کے لیے غزوہ حنین اور غزوہ طائف کا مطالعہ کیجیے۔ فتح مکہ کے فورا بعد یہ دونوں غزوات پیش آئے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ دونوں غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو الگ الگ طریقے اختیار فرمائے۔ حنین کے موقع پر آپ نے مخالفین سے باقاعدہ جنگ کی۔ اس کے برعکس طائف کے موقع پر صورت حال کا اندازہ کرنے کے بعد آپ لڑائی کیے بغیر واپس چلے آئے۔ قریش کے بعد عرب میں دو بڑے قبیلے، ہوارن اور ثقیف تھے ۔ وہ ایک دوسرے کے حلیف تھے۔ فتح مکہ کے بعد ان قبائل نے اطاعت قبول نہیں کی بلکہ انھوں نے مسلمانوں کے خلاف جارحیت کا منصوبہ بنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی تو آپ مکہ سے چل کر حنین پہونچے۔ یہاں قبیلہ ہوازن کے ساتھ آپ کا مقابلہ ہوا۔ یہ مقابلہ کھلے میدان میں تھا۔ اس مقابلہ میں آخر کار مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ اس کے فورا بعد آپ نے قبیلہ ثقیف پر چڑھائی کی مگر یہاں صورت یہ تھی کہ قبیلہ ثقیف طائف میں رہتا تھا۔ جو مکمل طور پر حصار میں تھا۔ شہر طائف کے چاروں طرف پتھر کی اونچی اونچی دیواریں کھڑی ہوئی تھیں۔ مسلمانوں کے لیے براہ راست مقابلہ میں یہ دیواریں حائل ہوگئیں ۔ قبیلہ ثقیف کے لوگ دیواروں کے اوپر مورچہ سنبھالے ہوئے تھے اور مسلمان دیوار کے نیچے میدان میں تھے ۔ ثقیف والوں نے مسلمانوں پر تیر برسانے مسلمان اس کے باوجود دیوار تک پہونچ گیے ۔ تو انھوں نے اوپر سے گرم کیا ہوا لوہا گرانا شروع کیا اس کی وجہ سے بہت سے مسلمان شہید ہو گیے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلم فوجوں کو واپسی کا حکم دنے دیا۔ قبیلہ ہوازن سے مسلمانوں کا مقابلہ برابری کا مقابلہ تھا۔ اس لیے وہاں پورا مقابلہ کیا گیا۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page