Urdu book · دین کامل

حکمت اسلام

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو تا ہے کہ احکام اسلام کو بیان کرنے کے معاملہ میں ان سے کوئی کمی نہیں کی گئی۔ تمام احکام پوری طرح سنائے جاتے رہے اور بیان کیے جاتے رہے ۔ مگر احکام کے عملی مطالبہ کے معاملہ میں ان سے حسب گنجائش رخصت کا اور تدریج کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ اس سلسلہ میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : قال الامام احمد : حدثنا عفان ، حدثنا محمد بن مسلمة، عن حميد، عن الحسن ، عن عثمان بن ابی العاص ، ان وفد ثقیف قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فانزلهم المسجد يكون ارقّ لقلوبهم ، فاشترطوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم الا يصلّوا) والا يحشروا ولا يعشّروا ولا يجبوا ولا يستعمل عليهم غيرهم ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " لكم الا تحشروا ولا تعشروا ولا يستعمل عليكم غيركم ، ولا خير في دين لاكروع فيه" ثقیف کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آیا۔ آپ نے ان کو مسجد میں ٹھہرایا تاکہ وہاں کے ماحول سے ان کے دل نرم ہوں۔ انھوں نے اسلام قبول کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شرط لگائی کہ انھیں جہاد کے لیے جمع نہیں کیا جائے گا۔ اور ان سے عشر نہیں لیا جائے گا اور ان پر ٹیکس نہیں لگایا جائے گا اور ان کے اوپر کسی غیر کو حاکم نہیں بنایا جائے گا اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ تم سے جہاد میں شرکت کے لیے نہیں کہا جائے گا اور تم پر عشر نہیں لگایا جائے گا اور تمہارے اوپر کسی غیر کو حاکم نہیں بنایا جائے گا۔ اور اس دین میں کوئی خیر نہیں جس میں اللہ کے آگے جھکنا نہ ہو ۔ ایک اور روایت ان الفاظ میں آئی ہے : قال ابوداؤد : حدثنا الحسن بن الصباح ، حدثنا اسماعيل بن عبد الكريم ، حدثني ابراهيم بن عقيل بن معقل بن منبه ، عن وهب ، سالت جابرا عن شان ثقيف اذ بايعت قال : اشترطت على رسول الله صلى الله عليه وسلم ان لاصدقة عليها ولاجهاد ، واسنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول بعد ذلك : " سيتصدقون ويجاهدون اذا اسلموا " وہب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر سے ثقیف کی بابت پوچھا جب کہ انھوں نے بیعت کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ثقیف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شرط لگائی کہ ان پر زکوٰۃ نہ ہوگی اور ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page