Urdu book · دین کامل

حکمت اسلام

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

پر جہاد نہ ہوگا۔ اور یہ کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط مان لی) اور اس کے بعد انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب وہ اسلام قبول کر لیں گے تو آئندہ وہ زکوٰۃ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔ اس رخصت یا حکمت تدرّج کے لیے کوئی ایک ہی لگا بندھا اصول مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ اس کا تعلق زیادہ تر حالات سے ہے ۔ جن لوگوں کے ساتھ رخصت برتی جا رہی ہے، یا جن کے ساتھ تدرّج کا معاملہ کیا جا رہا ہے ، ان کی استعداد اور حالات کی روشنی میں اس کا فیصلہ کیا جائے گا نہ کہ کسی مطلق اصول یا کسی متعین فہرست کی بنیاد پر۔ اس نظریہ کے حق میں ایک ثبوت یہ ہے کہ ثقیف کے ساتھ صدقہ اور جہاد کے معاملہ میں رخصت کا معاملہ اختیار کیا گیا۔ مگر اسی صدقہ اور جہاد کی رخصت ایک اور شخص نے طلب کی تو اس کو اس کی رخصت نہیں دی گئی ۔ یہاں ہم اس سلسلہ میں ایک واقعہ نقل کرتے ہیں ۔ عن بشیر بن الخصاصية رضى الله عنه قال : اتيتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم لابايعه نقلت علام تبايعنى يا رسول الله، فحمد رسول الله صلى الله عليه وسلم يده ، فقال : تشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له وتصلى الصلوات الخمس لوقتها وتؤدى الزكوة وتقصوم رمضان وتحج البيت، وتجاهد فى سبيل الله ؛ قلت : يا رسول الله ، كلا نطيق الا اثنتين فلا اطيقهما الزكوة، والله مالى الا عشر ذود هنّ رسل اهلى رسولتهن . واما الجهاد فانى رجل جبان ، ويزعمون انه من ولى فقد باد بغضب من الله ، واخاف ان حضر القتال ان اخشع بنفسى فاتر فابوع بغضب من الله . فقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم يده ثم حركها ، ثم قال : " يا بشير ، لا صدقة ولاجهاد : فَبِمَ اذن تدخل الجنة ؟ " قلت : يا رسول الله، ابسط يدك ابايعك ، فبسط يده فبايعته عليهنّ كلهن . كذا فى كنز العمال (۱۲/۷) واخرجه احمد ، ورجاله موثقون كما قال الهيثمي (۷۳/۱) بشیر بن خصاصیہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تا کہ بیعت کروں اور اسلام میں داخل ہو جاؤں) میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، آپ مجھ سے کس چیز پر بیعت لیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page