Urdu book · دین کامل

حکمت اسلام

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں، وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اور تم پانچ نمازیں ان کے وقت پر پڑھو، اور تم فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرو۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، میں یہ سب کر سکتا ہوں سواد و کے، کیوں کہ میں ان دو کی طاقت نہیں رکھتا۔ ایک، زکوٰۃ۔ خدا کی قسم، میرے پاس صرف دس اونٹ اور اونٹنیاں ہیں۔ وہ میرے گھر والوں کے لیے دودھ کا ذریعہ بھی ہیں اور بار برداری کا بھی۔ اور جہاں تک جہاد کا معاملہ ہے تو میں ایک بزدل آدمی ہوں۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ جو شخص جہاد کے میدان سے پیٹھ پھیرے تو وہ خدا کے غضب کا مستحق ہو جاتا ہے۔ میں ڈرتا ہوں کہ جب جنگ کا موقع ہو تو میں ڈر جاؤں اور میدان سے بھاگ جاؤں، پھر میں اللہ کے غضب کا مستحق بنوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اس کو حرکت دیتے ہوئے کہا کہ اے بشیر، نہ صدقہ اور نہ جہاد، پھر تم کیسے جنت میں جاؤ گے ۔ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول، اپنا ہاتھ بڑھائیے میں آپ سے بیعت کرتا ہوں۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے ان سب چیزوں پر آپ سے بیعت کی۔ قرآن کے متعلق معلوم ہے کہ وہ بیک وقت ایک کامل کتاب کی صورت میں نہیں اترا، بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے ترتیب وار اترا۔ اس طرح اس کے نزول میں ۲۳ سال لگ گیے۔ قرآن کے اس طرح نازل ہونے کا سبب کیا تھا، اس کا جواب حضرت عائشہ کی ایک روایت میں ملتا ہے جو کہ حسب ذیل ہے : انما نزل اول ما نزل سورۃ من المفصل، فيها ذكر الجنة والنار حتى اذا تاب الناس الى الاسلام نزل الحلال والحرام - ولو نزل اول ما نزل لا تشربوا الخمر لقالوا لا ندع الخمر ابداً ۔ و لوتزل لا تزنوا لقالوا لا ندع الزنا ابداً ۔ (بخاری، باب تالیف القرآن) قرآن میں پہلے وہ مکی سورتیں اتریں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر ہے۔ یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہوگئے تب حلال اور حرام کے احکام اترے۔ اور اگر پہلے ہی یہ حکم اترتا کہ شراب نہ پیو تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے۔ اور اگر پہلے ہی یہ حکم اترتا کہ زنانہ کرو تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم ہرگز زنانہ چھوڑیں گے۔ بیان احکام میں ہمیشہ فہرست بندی مطلوب ہوتی ہے اور نفاذ احکام میں ہمیشہ ترتیب و تدریج۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page