Urdu book · دین کامل

حکمت اسلام

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

عام طور پر تحریک مجاہدین کہا جاتا ہے ۔ وہ یو پی ، بہار اور بنگال سے اپنے معتقدین کو لے کر پنجاب پہنچے۔ وہاں انھوں نے پشاور کو " فتح " کیا اور اس میں اسلامی قانون کی حکومت قائم کر دی ۔ مگر یہ اسلامی حکومت بہت تھوڑے عرصہ میں ختم ہو گئی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جن لوگوں کے اوپر اسلامی قانون کی حکومت قائم کی گئی وہ اگرچہ نسلی طور پر مسلمان تھے مگر اسلامی قانون کو قبول کرنے کا مزاج ان کے اندر بالکل پیدا نہیں کیا گیا تھا۔ چنانچہ مقامی مسلم آبادی سید صاحب کے عمال کی باغی ہو گئی۔ وہاں کے قبائلی سرداروں نے سید صاحب کے آدمیوں کو قتل کر ڈالا، اور خود سید صاحب کا یہ حال ہوا کہ انھوں نے مہاراجہ رنجیت سنگھ سے انتہائی غیر حکیمانہ جنگ چھیر دی اور اس میں لڑتے ہوئے ۶ مئی ۱۸۳۱ کو قتل کر دیئے گیے۔ اسلامی حکومت بننے کے ساتھ ہی ختم ہو گئی ۔ ایک مورخ نے سید احمد شہید بریلوی کے حالات لکھتے ہوئے آخر میں حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں: " مجاہدین کی اکثریت صرف نعرہ جہاد پر جمع ہو گئی تھی ۔ ان کی تربیت نہ ہو سکی تھی ۔ اس لیے اسلامی حکومت کو چلانے کی ذمہ داری سنبھالنا ان کے بس کا روگ نہ تھا۔ انھوں نے جس علاقہ میں اسلامی حکومت قائم کی وہاں کے عوام کے ذہن کو پہلے اس کے لیے تیار نہ کیا۔ سید صاحب کی حکومت نے اسلامی قانون کو نافذ کرتے ہوئے تدرِیج کا خیال نہ رکھا اور سارا اسلامی قانون فوراً نافذ کر دیا۔ اس سے عوام کے اندر اضطراب اور بے چینی پھیل گئی " تاریخ پاکستان و ہند از شیخ محمد رفیق ایم اے ، لاہور ۱۹۷۲، صفحہ ۳۳۵ مسلمانوں کے پرجوش لیڈروں کو نہ قرآن و سنت سے ہدایت ملی اور نہ ماضی اور حال کے واقعات ان کی آنکھ کھولنے والے ثابت ہوئے۔ وہ ایک ہی ناکام کہانی کو ڈیڑھ سو سال سے مسلسل دہراتے چلے جا رہے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page