Urdu book · دین کامل

نبوت اور ختم نبوت

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

نبوت اور ختم نبوت کچھ لوگوں سے ختم نبوت کے اسلامی عقیدہ پر گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ پیغمبر عربی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ اب قیامت تک کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کی دلیل کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی نقلی اور عقلی دلیل بار بار تفصیل کے ساتھ بتائی جا چکی ہے۔ آپ اس موضوع کی کتابوں کا مطالعہ کر کے اس کو جان سکتے ہیں ۔ اس وقت میں مختصر طور پر صرف ایک بات بیان کرتا ہوں جو اس معاملہ میں فیصلہ کن دلیل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ نبوت کیا ہے۔ نبوت ابدی اصولوں کے اظہار کا نام ہے۔ جس طرح سائنس اصول فطرت کو بتاتی ہے ، اسی طرح نبوت اصول انسانیت کو بتاتی ہے۔ یہ دونوں ہی ابدی ہیں۔ اصول فطرت کسی تبدیلی کے بغیر ابدی طور پر کائنات میں قائم ہیں۔ اسی طرح اصول انسانیت بھی جب ایک بار مستند طور پر دریافت ہو جائیں تو پھر وہ مستقل ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان میں دوبارہ کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ نبی کا کام بنیادی طور پر یہ ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی منصوبہ سے انسان کو باخبر کرے۔ ہر پیغمبر نے اصلاً یہی کام انجام دیا ہے۔ پیغمبروں نے بتایا کہ انسان کا عرصہ حیات دو مختلف حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک ، موت سے پہلے والی مختصر زندگی۔ دوسری، موت کے بعد آنے والی طویل اور ابدی زندگی ۔ موجودہ زندگی انسان کی آخری منزل نہیں ، وہ آخری منزل کی تیاری کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ پیغمبر نے ان اخلاقی اصولوں اور ان انسانی قدروں کو بتایا جن کو اختیار کر کے آدمی ابدی کامیابی حاصل کرتا ہے اور جن کو چھوڑ دینے سے وہ ابدی محرومی کے گڑھے میں گر جاتا ہے ۔ اس تخلیقی منصوبہ کے مطابق ، موجودہ دنیا دار العمل ہے، اور موت کے بعد آنے والی دنیا دار الجزاء ۔ موجودہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے اور بعد والی دنیا آزمائش کے مطابق انعام پانے کی جگہ ۔ پیغمبر کی آمد کا اصل مقصد یہی ہے کہ وہ انسان کو اس حقیقت واقعہ سے باخبر کرے۔ یہ پیغام خود اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہے۔ اس میں دسویں صدی یا بیسویں صدی یا چالیسویں صدی کے اعتبار سے فرق کا کوئی سوال نہیں ۔ قدیم زمانہ میں بار بار نبی کے آنے کی ضرورت اس لیے تھی کہ ایک پیغمبر کی لائی ہوئی ہدایت اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page