Urdu book · دین کامل

نبوت اور ختم نبوت

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

بتایا ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ میں وقت کا پیغمبر ہوں، مگر بابا جی نے اس کا کوئی براہ راست جواب نہیں دیا۔ یہاں تک کہ میں وہاں سے واپس چلا آیا۔ جن لوگوں سے یہ گفتگو ہو رہی تھی، انھوں نے دوبارہ کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی (۱۹۰۸-۱۸۳۹) نے تو اپنے بارہ میں پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے حالات بتاتے ہیں کہ وہ خلل ذہنی کا شکار تھے، وہ کوئی صحیح الدماغ آدمی نہ تھے۔ ایسا شخص کوئی بھی لغو بات کہہ سکتا ہے۔ حتیٰ کہ ان کا غیر فصیح کلام خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کسی پیغمبر کا کلام نہیں۔ تاہم اس سے قطع نظر، ان کے اصل دعویٰ پر غور کیجئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ ظلی یا بروزی پیغمبر ہیں۔ یعنی وہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز (Reappearance) ہیں۔ ان کا یہ قول اپنی تردید آپ ہے۔ جب وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز ہیں تو قدرتی طور پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں جانچ کر ان کے دعویٰ کی صحت یا عدم صحت کا فیصلہ کیا جانا چاہئے۔ یہ کہہ کر مرزا غلام احمد قادیانی نے خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اوپر جج مان لیا۔ بالفاظ دیگر ان کی نبوت کو جانچنے کا معیار خود وہ ذات قرار پائی جو اپنے بعد کسی اور نبی کا پیشگی انکار کر چکی ہے۔ یہ کیسی عجیب تردید ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی نے خود ہی اپنے خلاف فراہم کر دی۔ اب مرزا غلام احمد قادیانی کو پیغمبر بنانے کی شرط اول یہ ہوگی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تعلیمات سے یہ ثابت کیا جائے کہ آپ کے بعد ظلی یا بروزی پیغمبر آئیں گے۔ مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے پورے ذخیرہ (نیز قرآن) میں اس کے حق میں کوئی دلیل موجود نہیں۔ قرآن میں آپ کو خاتم النبیین بتایا گیا ہے (الاحزاب ۴۰) اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحتاً یہ فرما دیا ہے کہ میرے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ میرے بعد نبوت کے ایسے دعویدار تو اٹھ سکتے ہیں جن کا جھوٹا ہونا عیاناً ثابت ہو، مگر میرے بعد کسی سچے نبی کی آمد ممکن نہیں: عن ثوبان، قال رسول الله صلی اللہ حضرت ثوبان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم .... وانہ سیکون فی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا .... اور یہ کہ میری امت امتی کذابون ثلاثون، كلهم میں تیس جھوٹے ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page