حصہ دوم
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ثابت کیا کہ وہ حقیقت کو مجرد سطح پر پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ایک لفظ میں یہود کا کیس تقلید آباء کا کیس تھا اور صحابہ کرام کا کیس جوہر شناسی کا کیس۔ یہی وہ فرق ہے جس نے ایک گروہ کو اللہ کی نظر میں مومن ٹھہرایا اور دوسرا گروہ اللہ کی نظر میں غیر مومن ہو کر رہ گیا۔ معلوم ہوا کہ صحابہ والا ایمان معرفت والا ایمان ہے۔ صحابہ نے مجرد سطح پر حقیقت کو پہچانا اور اس کا ساتھ دیا۔ آج بھی وہی ایمان حقیقی ایمان ہے جو آدمی کے اندر مجرد سطح پر حقیقت کو دیکھنے کی نظر پیدا کر دے۔ یہ فرق بے حد بنیادی فرق ہے ۔ اسی سے وہ تمام اعلیٰ خصوصیات پیدا ہوتی ہیں جو ہم صحابہ کرام کی زندگیوں میں دیکھتے ہیں۔ عبرت و نصیحت کا مزاج ایک ایمان وہ ہے جو بس جامد عقیدہ ہو جو آدمی کے ذہنی اسٹور میں بہت سی چیزوں میں سے ایک چیز کے طور پر پڑا ہوا ہو ۔ وہ آدمی کی زندگی کا کل نہ ہو بلکہ وہ اس کا صرف ایک جز ہو۔ دوسرا ایمان وہ ہے جو آدمی کے اندر اتنی گہرائی کے ساتھ اترے کہ وہی اس کی فکر و نظر بن جائے ۔ آدمی ہر چیز کو اسی خاص زاویہ سے دیکھے۔ وہ ہر چیز میں اپنے ایمان کی جھلک پانے لگے۔ اس کا ایمان اس کا ایک جز نہ ہو بلکہ وہی اس کا کل بن جائے ۔ کوئی حقیقت جب گہرائی کے ساتھ کسی کو ملتی ہے تو وہ اس کی سوچ بن جاتی ہے۔ ایمان اسی قسم کی ایک عظیم حقیقت ہے ۔ یہ ناممکن ہے کہ ایمان ایک زندہ حقیقت کے طور پر کسی کے اندر داخل ہو اور وہ اس کی سوچ اور اس کے جذبات پر پہچانا جائے۔ صحابہ کرام کا ایمان اسی قسم کا زندہ ایمان ہوتا۔ ان کا ایمان ان کے پورے فکر و خیال پر چھپا گیا تھا ۔ وہ ہر چیز میں اسی کا عکس دیکھنے لگے تھے۔ ہر چیز جو ان کی نگاہ سے گزرتی تھی وہ ان کے ایمان کے سانچے میں ڈھل جاتی تھی۔ ہر مشاہدہ ان کے ذہنی خانہ میں داخل ہو کر ایک انسانی سبق کا ذریعہ بن جاتا تھا ۔ ایک صحابی کا واقعہ ہے ۔ وہ اپنے گھر کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ۔ اتنے میں ایک گاڑی گزری جس میں دو جانور جتے ہوئے تھے ۔ چلتے چلتے ایک جانور بیٹھ گیا اور دوسرا جانور کھڑا رہا۔ جو جانور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader