حصہ دوم
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
بیٹھا گیا تھا اس کو گاڑی والے نے ڈنڈے سے مارا ۔ اس کو دیکھ کر صحابی نے کہا ، " إِنَّ فِي هَذَا لَعِبْرَةً (اس کے اندر بھی نصیحت ہے) یعنی جو جانور چلتا رہا وہ بچ گیا اور جس جانور نے سستی دکھائی اس پر مار پڑی ۔ یہی معاملہ انسان کے ساتھ آخرت میں ہوگا ۔ جو انسان خدا کی ڈیوٹی پوری کرے گا وہ نجات پائے گا اور جو انسان خدا کی ڈیوٹی نہیں پوری کرے گا اس کو سزا ملے گی ۔ گاڑی کا واقعہ بظاہر ایک دنیوی واقعہ تھا مگر صحابی نے اس دنیوی واقعہ میں آخرت کی جھلک دیکھ لی ۔ ایک مادی مشاہدہ صحابی کے ذہنی خانہ میں داخل ہو کر روحانی واقعہ میں ڈھل گیا ۔ اسی فکری تبدیلی کا دوسرا نام نصیحت ہے ۔ اعتراف موجودہ دنیا میں کسی آدمی کے لیے سب سے زیادہ مشکل چیز دوسرے کے فضل و کمال کا اعتراف کرنا ہے ۔ ہر آدمی اپنے آپ میں اتنا زیادہ گم رہتا ہے کہ اس کو دوسرے کی خوبی دکھائی نہیں دیتی ۔ مگر ایک سچا مومن اس کمزوری سے پاک ہوتا ہے ۔ ایمان در حقیقت خدا کی بڑائی کے مقابلہ میں اپنے عجز کی دریافت ہے ۔ جب یہ ایمان کسی کو گہرائی کے ساتھ ملتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی اپنی ذات اس کی نظر سے حذف ہو جاتی ہے ۔ اس کا ایمان اس سے اس کی انا کو چھین لیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کے اندر اعتراف کا مادہ کمال درجہ میں پیدا ہو جاتا ہے دوسرے کا اعتراف کرنے میں آدمی کی اپنی انا رکاوٹ بنتی ہے ۔ جس شخص کی انا مٹ چکی ہو اس کے لیے کیا چیز ہوگی جو دوسرے کے فضل و کمال کا اعتراف کرنے میں رکاوٹ بنے ۔ لبید ایک صحابی ہیں ۔ وہ عرب کے ایک شاعر تھے ۔ انہوں نے جب قرآن کو سنا تو وہ فوراً اس کے مومن بن گئے ۔ اس کے بعد ان کی شاعری چھوٹ گئی ۔ کسی نے پوچھا کہ آپ نے شاعری کیوں چھوڑ دی تو انہوں نے کہا : اَبَعْدَ الْقُرْ آنِ (کیا قرآن کے بعد بھی) حضرت لبید کے اس جملہ کی اہمیت سمجھنے کے لیے ہم کو ۱۴ سو برس پیچھے جانا پڑے گا ۔ حضرت لبید نے یہ جملہ اس وقت کہا جب کہ قرآن ابھی اتر رہا تھا ۔ جب قرآن کو ماننے والے مظلوم تھے ۔ جب دنیا میں قرآن کی وہ عظمت قائم نہیں ہوئی تھی جو بعد کو پیش آنے والے تاریخی واقعات کے نتیجہ میں قائم ہوئی ۔ اس وقت یہ کہنا کہ " کیا قرآن کے بعد بھی " ایک بے حد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader