ایک مطالعہ
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مطالعہ بلقان ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی پہاڑ کے ہوتے ہیں۔ یہ لفظ یورپ کے مشرق میں اس جزیرہ نما کے لئے بولا جاتا ہے جس میں حسب ذیل ملک واقع ہیں: یونان، البانیہ، یوگوسلاویہ، بلغاریہ، رومانیہ۔ پندرھویں صدی کے وسط میں یہ علاقہ تقریباً مکمل طور پر عثمانی ترکوں کے قبضہ میں آگیا اور بیسویں صدی کے آغاز تک کسی نہ کسی طرح ان کے قبضہ میں باقی رہا۔ آخری دور میں ان ملکوں میں قومی آزادی کی تحریکیں اٹھیں۔ مغربی ملکوں، خاص طور پر روس سے انھیں حوصلہ افزائی ملی۔ یہاں تک کہ ترک ان سے دست بردار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ ۱۸۲۹ میں انھیں یونان کو آزادی دینی پڑی۔ اسی طرح سربیا ۱۸۷۸ء، رومانیہ ۱۸۷۸ء، بلغاریہ ۱۹۰۸ء اور البانیہ ۱۹۱۲ میں آزاد ہو گیا۔ موجودہ زمانہ کے سلمان سیاست کی شاخ پر اپنا آشیانہ بنائے ہوئے تھے چنانچہ ترک خلافت کی بلقان سے واپسی کی خبریں جب ہندوستان میں پھیلیں تو یہاں کے لیڈروں میں ایک ہیجان برپا ہو گیا۔ مولانا محمد علی جوہر (۱۹۳۱- ۱۸۷۸) نے اپنی نا تمام سوانح حیات میں لکھا ہے کہ میں اس واقعہ سے اتنا زیادہ متاثر ہوا کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں خودکشی کرلوں: My feelings during the disastrous war in the Balkans were at one time so overpowering that I must confess I even contemplated suicide. Mohammad Ali, My Life: A Fragment, Lahore 1946, p.37. اخباروں نے پر جوش مضامین شائع کئے۔ شاعروں نے جذبات سے بھری ہوئی نظمیں لکھیں۔ مولانا شبلی نعمانی (۱۹۱۴- ۱۸۵۷) کی ایک نظم کو اس زمانہ میں بہت شہرت حاصل ہوئی ۔ اس کے چند اشعار یہ ہیں : یہ سیلاب بلا بلقان سے جو بڑھتا آتا ہے اسے روکے گا مظلوموں کی آہوں کا دھواں کب تک زوالِ دولت عثماں زوالِ شرع و ملت ہے عزیز و فکر فرزند و عیال و خانماں کب تک پرستارانِ خاک کعبہ دُنیا سے اگر اٹھے تو پھر یہ احترام سجدہ گاہِ قدسیاں کب تک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader