ایک مطالعہ
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلی عالمی جنگ (۱۹۱۸- ۱۹۱۴) ختم ہوئی تو مولاناشبلی نعمانی (م ۱۹۱۴) یہ منظر دیکھنے کے لئے دنیا میں موجود نہ تھے کہ دولت عثمانیہ کے جس زوال کو انھوں نے صرف جزئی طور پر دیکھا تھا، وہ اپنی آخری نوبت کو پہنچ گیا ہے۔ اس جنگ کے نتیجہ میں خود ترکی کو چھوڑ کر بقیہ تمام مشرقی اور مغربی مقبوضات ان کے ہاتھوں سے نکل گئے۔ حتیٰ کہ کمال اتاترک نے ۳۰ مارچ ۱۹۲۴ کو ایک سرکاری اعلان کے ذریعہ برائے نام خلافت کے بھی الغاء کا اعلان کر دیا۔ شبلی نے دولت عثمانیہ کے صرف زوال کو دیکھا تھا، محمد علی مزید زندہ رہے اور انھیں دولت عثمانیہ کے خاتمہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا پڑا۔ بیسویں صدی کے ابتدائی زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے ”خلافت“ کے بارہ میں جو پرجوش الفاظ کہے تھے، اور جس کا ایک نمونہ مولانا شبلی نعمانی کے مذکورہ اشعار میں موجود ہے، اگر خلافت ، بالفاظ دیگر سیاسی ادارہ، کی یہی اہمیت ہوتی تو اس کے خاتمہ کے بعد خود اسلام کا بھی خاتمہ ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر خاتمہ خلافت کے ۷۰ سال بعد اسلام نہ صرف زندہ ہے بلکہ پہلے سے زیادہ بہتر حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اس ۷۰ سال کے دوران مسلمان بحیثیت قوم مختلف قسم کی ذلت اور بربادی سے دوچار ہوئے ہیں۔ مگر اسلام کا معاملہ یقینی طور پر اس سے مختلف ہے۔ اسلام کے نام پر آج جتنی کتابیں اور رسائد چھپ رہے ہیں، پہلے ان کا سوال حصہ بھی موجود نہ تھا۔ مولانا شبلی کو جن کتابوں کے مخطوطات دیکھنے کے لئے ”روم و مصر و شام“ کا سفر کرنا پڑا تھا، وہ آج ہر شہر اور ہر قصبہ میں چھپی ہوئی موجود ہیں۔ آج پہلے سے بہت زیادہ اسلامی ادارے دنیا میں قائم ہیں ، ساری دنیا میں اسلامی اجتماعات اور کانفرنسیں جتنی زیادہ تعداد میں آج منعقد ہو رہی ہیں ، پہلے ان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس درمیان میں لاکھوں کی تعداد میں نئے لوگ اسلام کے دائرہ میں داخل ہوئے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ تاریخ کا یہ تجربہ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ اسلام ایک لازوال قوت ہے۔ وہ اس سے زیادہ طاقت ور ہے کہ کوئی سیاسی یا قومی حادثہ اس کو ادنیٰ درجہ میں بھی نقصان پہنچا سکے۔ اسلام کی صورت میں خدا کا دین آخری حد تک مستحکم ہو چکا ہے۔ اس کے لئے اب اللہ کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader