Urdu book · دین کامل

ایک مطالعہ

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

انتظامیہ اور سیکولر عدالت مکمل طور پر اس کے خلاف متحرک ہو گئی۔ ریاستی ذمہ داروں سے لے کر مرکزی ذمہ داروں تک سب اس کے خلاف ہو گئے ۔ اس وقت تک کوئی چین سے نہیں بیٹھا جب تک اس دعویٰ کو کامل طور پر مسترد نہیں کر دیا گیا۔ مگر اس پورے واقعہ کا سب سے زیادہ عجیب پہلو وہ ہے جو مسلمانوں کی طرف سے پیش آیا۔ ہندوستان کے مسلم پریس میں اور بیرون ملک کے مسلم اخبارات و جرائد میں اس کے بارہ میں مضامین اور بیانات شائع ہوئے ۔ مگر بلا استثناء تمام بیانات میں صرف ایک ہی بات کہی گئی ۔ اور وہ اس بات کی مذمت تھی کہ ہندوستان میں قرآن کے خلاف ایسا عدالتی مقدمہ قائم کیا گیا۔ ہر ایک کو " دعویٰ " دکھائی دیا، مگر اس کا " فیصلہ " کسی کو دکھائی نہیں دیا۔ اس واقعہ کا ایک پہلو یہ تھا کہ چندن مل چو پڑانے اس قسم کا ایک لغو مقدمہ دائر کیا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ جب اس نے ایسا کیا تو سارا ملک ، عوام سے لے کر حکومت تک ، اس کے خلاف ہو گیا۔ کروڑ آدمیوں کے اس ملک میں کوئی بھی اس کی حمایت میں کھڑا نہیں ہوا۔ واقعہ کا اول الذکر پہلو یہ یہ تھا کہ اس ملک میں ایک شخص قرآن کی تبلیغ واشاعت کا مخالف ہے تو اس کا دوسرا اہم تر پہلو یہ تھا کہ سارے ملک میں کوئی شخص یا ادارہ اس کی حمایت کرنے والا نہیں ۔ یہ دوسرا پہلو دور جدید میں اسلامی دعوت کے عظیم ارکان کو بتا رہا تھا۔ مگر مسلمانوں کے اصاغر و اکابر اس کو دیکھ نہ سکے ۔ اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ دعوہ بلائنڈ ہو چکے تھے ۔ تحفظاتی ذہن مسلمانوں کے اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ ان کے تقلیدی مذہب کا کوئی نشان مٹتا ہوا نظر آئے تو وہ سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کے برعکس دعوت کے معاملہ میں ان کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ دعوت کے مواقع برباد ہوں تو انھیں اس کی کوئی پریشانی نہیں ۔ اس کی ایک مثال ۱۹۷۹ کا وہ واقعہ ہے جب کہ جنتا پارٹی کی حکومت کے زمانہ میں اس کے ایک ممبر مٹرا وپی تیاگی نے مذہبی آزادی (Freedom of religion) کا بل پیش کیا۔ اس بل کا مقصد عملاً یہ تھا کہ ملک سے تبدیلی مذہب کے عمل کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو الرساله مئی ۱۹۷۹) اس بل کی سخت مخالفت ہوئی اور وہ پارلیمنٹ میں پاس نہ ہو سکا ۔ مگر اس کا کریڈٹ تمام تر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page