ایک مطالعہ
Urdu book, p. 177
By Maulana Wahiduddin Khan
امکانات بالکل دکھائی نہیں دیتے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کھولے ہیں۔ عظیم امکانات کے کنارے کھڑے ہوئے وہ صرف شکایت اور احتجاج میں مشغول ہیں۔ اس کی وضاحت کے لیے یہاں ہم ایک مثال نقل کریں گے ۔ کلکتہ ہائی کورٹ کا واقعہ کلکتہ ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن کا قصہ " جدید امکانات" کے تحت تفصیل سے آ چکا ہے۔ ہائی کورٹ کی جسٹس پدما سنگھیر نے ۱۸ اپریل ۱۹۸۵ء کو چندن مل چوپڑا کا ایک دعویٰ برائے سماعت منظور کرلیا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ قرآن کی طباعت و اشاعت پر ہندوستان میں پابندی لگادی جائے ، کیوں کہ قرآن ایسے عقائد کی تعلیم دیتا ہے جو ملک کے غیر مسلم فرقوں کے لیے خطرہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جسٹس باسکت نے ۷ مئی ۱۹۸۵ء کو اس مقدمہ پر ہائی کورٹ کا ابتدائی فیصلہ سناتے ہوئے اس کو خارج کر دیا۔ انھوں نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے اپنے فیصلہ کے پیرا گراف نمبر ۴ میں لکھا کہ : For the aforesaid reasons this application stands dismissed. اس کے بعد ۲۴ نومبر ۱۹۸۵ء کو کلکتہ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس مسٹر دیپک سین اور مسٹر جسٹس شیمامل کمار سین کی ڈویژنل بنچ نے اپنا آخری فیصلہ سنایا۔ اس فیصلہ میں جسٹس دیپک سین نے کہا کہ قرآن مذہب اسلام کی بنیادی کتاب ہے اور پیغمبر اسلام کے زمانہ سے آج تک کسی مہذب ملک میں اس نوعیت کا مقدمہ قرآن کے خلاف دائر نہیں کیا گیا۔ فاضل جج نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۹۵ قرآن یا دوسری مقدس کتابوں پر لاگو نہیں ہوتی جس کے تحت انھیں ضبط کیا جائے اور قانونی پابندی لگائی جائے۔ کسی بھی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے کہ کسی تاریخی کتاب آسمانی کے معاملہ میں مداخلت کرے ۔ مسٹر جسٹس شیمامل کمار سین نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ کسی مقدس آسمانی صحیفہ کو خلاف قانون قرار دینے کی ایسی کوئی عرضی ایک سیکو لر اسٹیٹ میں نہ قبول کی جا سکتی ہے اور نہ کسی مقدس کتاب پر پابندی لگائی جاسکتی ہے ۔ واقعات کے مطابق، چندن مل چوپڑا کے دعویٰ کے جواب میں مسلمانوں کو کچھ بھی نہیں کرنا پڑا۔ اس سلسلہ میں مدافعت یا اس کو ختم کرنے کی ساری کارروائی دوسروں نے کی۔ ملک کی سیکولر حکومت ، سیکولر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader