شہید اور شہادت
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
شہید اور شہادت اسلام کے دورِ اول میں ہزاروں صحابہ نے دین کی راہ میں اپنی جان نثار کی۔ ان میں اکابر صحابہ مثلاً عمر اور عثمان اور علی رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ”شہید“ کے لفظ کو ان کے نام کا جز بنا دیا جائے جیسا کہ آجکل کیا جاتا ہے۔ تاریخ میں کوئی بھی معلوم شخص نہیں جس نے ان حضرات کو عمر شہید ، عثمان شہید اور علی شہید لکھا ہو۔ مگر آج کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ آج یہ حال ہے کہ سید اسماعیل شہید اور سید قطب شہید جیسے الفاظ فخر کے ساتھ بولے اور لکھے جاتے ہیں۔ یہ فرق بتاتا ہے کہ موجودہ طریقہ بدعت ہے ، وہ سنتِ رسول اور طریقِ صحابہ کے مطابق نہیں۔ ذیل کے مضمون میں یہ بتانے کی کوشش کی جائے گی کہ شہید اور شہادت کا حقیقی مفہوم کیا ہے۔ دورِ اول میں ”شہادت“ کے اصل معنی گواہی کے ہیں۔ قرآن میں شـهـد کا مادہ تقریباً ڈیڑھ سو مقامات پر استعمال ہوا ہے۔ ہر جگہ وہ گواہی یا اس کے قریبی مفہوم ہی میں ہے۔ مثلاً والله يشهد ان المنافقين لكاذبون (المنافقون)، یا شهد عليهم سمعهم وابصارهم وجلودهم (حم السجدہ ۲۰) اسی سے شاہد یا شہید ہے ، یعنی گواہی دینے والا۔ قرآن میں ہے: انا ارسلناك شاهدا ومبشرا و نذيرا (الاحزاب) بعض مقامات (مثلاً النساء ۷۰) میں مفسرین نے شہدا کے معنی اللہ کی راہ میں جان دینے والے کے لئے ہیں۔ مگر یہ استنباطی طور پر ہے ، یہاں بھی یہ لفظ اس مفہوم کے لئے صریح نہیں ہے۔ آجکل عام طور پر ”شہید“ کا لفظ مقتول کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے۔ مگر یہ عوامی استعمال ہے نہ کہ قرآنی استعمال۔ قرآن میں صراحتہً جہاں بھی اللہ کی راہ میں جان دینے کا ذکر ہے وہاں قتل کا لفظ ہے نہ کہ شہد کا لفظ۔ مثلاً ولا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله اموات (البقرہ ۱۵۳) یا ومن يقاتل في سبيل الله فيقتل او يغلب (النساء ۷۴) اس طرح گویا اللہ کی راہ میں جان دینے والے کے لئے قرآنی لفظ مقتول فی سبیل اللہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader