Urdu book · دین کامل

شہید اور شہادت

Urdu book, p. 185

By Maulana Wahiduddin Khan

بعض احادیث میں یہ لفظ اس دوسرے مفہوم کے لئے استعمال ہوا ہے۔ مثلاً من سئل الله الشهادة بصدق بلغه الله منازل الشهداء، وان مات على فراشه (مسلم)، من قتل في سبيل الله فهو شهيد، ومن قتل دون ماله فهو شهيد (مسلم)، تاہم حدیث میں مقتول في سبيل الله کے لئے شہید کا استعمال اس لفظ کی ایک ضمنی توسیع ہے۔ نہ کہ اس کے اصل معنی کا تعیین۔ دور اول میں ہزاروں صحابہ نے دین کی راہ میں اپنی جان قربان کی ۔ مگر کسی کے ساتھ بھی ایسا نہیں ہوا کہ شہید کا لفظ اس کے نام کے ساتھ بولا یا لکھا جانے لگے۔ یہ موجودہ زمانہ کی ایک سیاسی بدعت ہے کہ شہید اور شہادت کا لفظ اصلاً مقتول فی سبیل اللہ کے لئے یا قتال فی سبیل اللہ کے لئے استعمال کیا جانے لگاہے۔ مزید یہ کہ اس کو اس دوسرے مفہوم کے اعتبار سے اتنا زیادہ گلوریفائی کیا گیا کہ اس کے آگے شہید اور شہادت کا اصل مفہوم بالکل ماند پڑگیا۔ شہید (معنی مقتول) کا لفظ مسلمانوں میں عظیم ترین ہیرو کے ہم معنی بن گیا ہے۔ اب مسلمانوں میں یہ تڑپ تو نہیں رہی کہ وہ قوموں کے درمیان خدا کے دین کے گواہ بن کر کھڑے ہوں، البتہ اپنی مدعو اقوام سے بے معنی طور پر لڑائی جھگڑا چھیڑنا اور لڑنا مرنا سب سے بڑا اسلامی عمل قرار پاگیا۔ قرآن کے مطابق شہید وہ ہے جو لوگوں کی ہدایت کے لئے سرگرم ہو۔ مگر عوامی رواج میں شہید کا لفظ ہر اس شخص کے لئے خاص ہو گیا ہے جو لوگوں کو قتل کرنے کے لئے سرگرم ہو۔ یہاں تک کہ خود قتل ہو جائے۔ یہ بلا شبہ ایک سیاسی بدعت ہے ۔ اور اس بدعت کا نقصان معروف بدعتوں سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو "شہید" کہا گیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے : فكيف اذا جئنا من كل امة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا (النساء) يا ويوم نبعث في كل امة شهيدا عليهم من انفسهم وجئنا بك شهیدا على هؤلاء (النحل (۸۹) يا ليكون الرسول شهيدا عليكم وتكونوا شهداء على الناس (الحج ۷۸) ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان معنوں میں شہید نہ تھے جن معنوں میں لفظ شہید کا استعمال آج کل کیا جاتا ہے۔ آجکل جب کہا جاتا ہے سید اسماعیل شہید یا سید قطب شہید ، تو اس کا مطلب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page