Urdu book · دین کامل

حصہ دوم

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

والا مہربان ہے ( ولیصفحوا ولیصفحوا الا تحبون ان یغفر الله لكم والله غفور رحیم ) حضرت ابو بکر نے اس آیت کے بعد کہا : بلی واللہ انی لاحب ان یغفر الله لی رہااں خدا کی قسم میں اس کو پسند کرتا ہوں کہ اللہ مجھے معان کردے ) اور مسطح کو جو اعانت وہ دیا کرتے تھے اس کو دوبارہ جاری کر دیا۔ بلکہ بعض روایات کے مطابق اس میں اضافہ کر دیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ذاتی شکایت کے معاملہ میں صحابہ کا طریقہ کیا تھا۔ ان کی شکایت کبھی نفرت اور انتقام کی اس حد تک نہیں پہونچتی تھی جو دل سے نکل ہی نہ سکے۔ اور نہ ایسا ہوتا تھا کہ شکایت پیدا ہونے کے بعد وہ شکایت والے آدمی کے لیے ظالم بن جائیں۔ اور اس کے خلاف ہر کاروائی کو اپنے لیے جائز سمجھ لیں۔ صحابہ کرام ہر معاملے کو آخرت کے لحاظ سے دیکھتے تھے ۔ وہ دوسروں کے قصور کو معاف کرتے تھے تاکہ خدا ان کے قصور کو معاف کرے ۔ وہ دوسروں کی کوتاہی سے درگزر کرتے تھے تاکہ خدا ان کی کوتاہی سے درگزر فرمائے ۔ آخرت کا مسئلہ ان کے ذہن پر اتنی شدت سے چھایا ہوا تھا کہ اس کے مقابلہ میں دوسرا ہر مسئلہ انہیں ہلکا نظر آتا تھا۔ وہ آخرت کی خاطر سب کچھ چھوڑ سکتے تھے ۔ وہ آخرت کی خاطر ہر رنچ کو بھلا دیتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام اس اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دے سکے کہ انہوں نے برائی کے بدلے بھلائی کا سلوک کیا ۔ انہوں نے تکلیف پہونچانے والوں کو دعائیں دیں۔ جنہوں نے ان کو ستایا ان کے لیے وہ رحمت کا چشمہ بن گئے ۔ یہی ایمان مثل صحابہ ایمان ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کو جو ایمان مطلوب ہے وہ وہی ہے جو مثل صحابہ ایمان ہو۔ جس شخص کو یہ منت ہو کہ آخرت میں خدا اس کے ایمان کو قبول کرے اس کو چاہیے کہ وہ صحابہ کے نمونے کو پکڑے ، وہ صحابہ کے طریقہ کی پیروی کرے ۔ وہ ایمان کے معاملے میں صحابہ کی تقلید کرنے والا بن جائے ۔ ہر حال میں انصاف عبدالرحمن بن عوف ایک صحابی تھے ۔ اور حضرت خالد بن ولید بھی ایک صحابی تھے ۔ دونوں کے درمیان کسی دنیوی معاملہ میں شکایت پیدا ہوگئی ۔ شکایت اتنی بڑھی کہ وہ عرصہ تک ختم نہ ہوسکی ۔ اس درمیان میں ایک شخص حضرت عبدالرحمن بن عوف کے پاس آیا ۔ اس نے ان کو خوش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page