حصہ دوم
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
گا۔ کیوں کہ خدا کی نظر میں سب حقیر اور کمزور ہیں۔ یہ ذہن خود بخود ظلم و زیادتی کے مزاج کو چھین لیتا ہے۔ صحابہ کرام کا حال یہی تھا ۔ وہ ہر معاملہ کو خدا کا معاملہ سمجھتے تھے ۔ وہ انسان کی طرف بڑھتے ہوئے سمجھتے تھے کہ وہ خدا کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاتھ ہر ظلم سے رکے رہتے تھے ۔ ان کا قدم زیادتی کی طرف بڑھنے کی ہمت نہیں کرتا تھا ۔ انہیں محسوس ہوتا تھا کہ ہر انسان کے ساتھ اس کا خدا کھڑا ہوا ہے ۔ دوسرے مسلمانوں کا ایمان بھی اسی وقت ایمان ہے جب کہ وہ اس قسم کا زندہ ایمان بن جائے ۔ جب ان کے اوپر خدا کی عظمت اس طرح چھا جائے کہ وہ ہر وقت اپنے آپ کو اس کے زیر اثر محسوس کرنے لگیں ۔ جب بندوں سے معاملہ کرتے ہوئے بھی وہ یہ سوچ کر سنبھل جائیں کہ وہ خدا سے معاملہ کر رہے ہیں ۔ کیوں کہ بندہ کمزور ہے مگر خدا تو کمزور نہیں ۔ انتقام نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں سے ایک غزوہ وہ ہے جس کو غزوہ بنی المصطلق کہتے ہیں ۔ یہ غزوہ 5ھ میں پیش آیا ۔ اس غزوہ کے بعد ایک معمولی واقعہ کو شوشہ بنا کر مدینہ کے منافقین نے حضرت عائشہ کو بدنام کرنا شروع کیا ۔ بعد کو قرآن (سورہ نور) میں آیت اتری جس نے حضرت عائشہ کی کامل برأت کردی ۔ اس وقت مدینہ میں ایک مہاجر مسلمان تھے جن کا نام مسطح بن اثاثہ تھا ۔ وہ بھی منافقوں کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر اس الزام میں شریک ہوگیے ۔ مسطح حضرت ابو بکر کے دور کے عزیز تھے ۔ ان کی غربت کی وجہ سے حضرت ابو بکر ہر ماہ ان کی مدد کیا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہ حضرت ابو بکر کی صاحبزادی تھیں ۔ قدرتی طور پر ان کو اس واقعہ کے بعد مسطح سے سخت شکایت ہو گئی ۔ مسطح کے اس فعل کے بعد حضرت ابو بکر نے قسم کھائی کہ اب میں مسطح کی کوئی مدد نہیں کروں گا ۔ اس پر قرآن میں یہ آیت اتری کہ ۔ تم میں جو لوگ وسعت والے ہیں ان کو نہیں چاہیے کہ وہ قسم کھائیں کہ وہ مسکینوں کی مدد نہیں کریں گے ۔ بلکہ انہیں چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔ کیا تم اس کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے ۔ اور اللہ بہت معاف کرنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader