Urdu book · دین کامل

تاریخ دعوت

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

Much has been said of Mahomet’s propagating his religion by the sword. The sword indeed; but where will you get your sword. Every new opinion, at its starting, is precisely in a minority of one. In one man’s head alone, there it dwells as yet. One man alone of the whole world believes it; there is one man against all men. That he take a sword, and try to propagate with that, will do little for him. Thomas Carlyle, The Hero As Prophet, p. 23. اگلے صفحات میں ہم اسلامی تاریخ کے کچھ حوالے نقل کریں گے جس سے دعوت کی تسخیری حیثیت کا واقعاتی ثبوت ملتا ہے۔ تدبیر انسانی، تدبیر ربانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تقریباً تیرہ سال رہے۔ مکہ کے آخری زمانہ میں، مشرکین نے یہ منصوبہ بنایا کہ آپ کے مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ اس سلسلہ میں ان کے سرداروں نے مختلف رائیں پیش کیں۔ اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے : واذ يمكر بك الذين كفروا ليثبتوك او اور جب منکرین تمہاری نسبت تدبیر میں سوچ يقتلوك او يخرجوك ويمكرون ويمكر رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا قتل کر دیں یا الله والله خير المكرين جلا وطن کر دیں۔ وہ اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیریں کر رہا تھا۔ اور اللہ بہترین ( الانفال ۳۰ ) تدبیر والا ہے۔ پیغمبر اسلام کے بارہ میں مشرکین کا منصوبہ یہ تھا کہ آپ کو قید یا قتل یا اخراج کے ذریعہ اپنے میدان سے ہٹا دیں۔ آیت کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زیادہ بہتر تدبیر کے ذریعہ اس ظالمانہ منصوبہ کو ناکام بنا دیا۔ یہ خدائی منصوبہ کیا تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ وہ منصوبہ یہ تھا کہ عین اس زمانہ میں جب کہ مکہ میں آپ کے خاتمہ کی تدبیریں کی جارہی تھیں ، مکہ کے دو مسلمان مدینہ بھیجے گئے اور وہاں انھوں نے اسلام کی تبلیغ شروع کی۔ ان کی تبلیغ سے مدینہ میں کثرت سے لوگ اسلام کے دائرہ میں داخل ہونے لگے۔ یہاں تک کہ مدینہ میں مسلمان اتنی بڑی تعداد میں ہو گئے کہ انھوں نے مدینہ میں غالب حیثیت حاصل کر لی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page