تاریخ دعوت
Urdu book, p. 218
By Maulana Wahiduddin Khan
خاموشی کے ساتھ مکہ سے مدینہ منتقل ہوگیے۔ یہی بات ہے جو حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے : امرت بقریة تأکل القریٰ ( مجھے ایک ایسی بستی کا حکم دیا گیا ہے جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی) بخاری وسلم ۔ یہ آیت واضح طور پر تدبیر انسانی اور تدبیر ربانی کا فرق بتا رہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تدبیر انسانی قید اور قتل اور اخراج کی سطح پر چلتی ہے، اور تدبیر ربانی دعوت کے ذریعہ تسخیر قلوب کی سطح پر۔ انسان کی سوچ کی آخری ہدیہ ہے کہ وہ اپنے حریف کو محبوس کرکے اس کی سرگرمیوں کو روک دے ۔ یا اس کو اپنے علاقہ سے نکال دے یا اس کو قتل کرکے اس کا خاتمہ کر ڈالے۔ مگر اللہ تعالی کا طریقہ اس سے یکسر مختلف ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے دین کا مبلغ بنا کر بستیوں میں داخل کرتا ہے ۔ وہ اپنے پیغام کے لیے لوگوں کے دلوں کے دروازے کھولتا ہے ۔ اس طرح یہ ہوتا ہے کہ تمام زندہ لوگ ٹوٹ ٹوٹ کر دین حق کی جانب اکٹھا ہوجاتے ہیں ۔ دین حق کی طاقت اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ دشمنوں کی کوئی تدبیر ان کے اوپر کارگر نہ ہوسکے ۔ تنخیری کلمہ ابو طالب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو قریش کے سردار ان کے پاس جمع ہوئے اور کہا کہ " ہمارے اور محمد کے درمیان کوئی بات طے کر دیجئے تاکہ دونوں ایک دوسرے سے رُکے رہیں " ابو طالب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور کہا کہ یہ قریش کے سردار لوگ جمع ہیں، بتائیے کہ آپ ان سے کیا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : نعم ، کلمة واحدة تعطونها تملكون ہاں ، تم مجھے ایک کلمہ دیدو، تم اس کے ذریعہ بها " عرب و تدين لكم بها العجم سے عرب کے مالک ہوجاؤ گے اور عجم اس کے (سيرة ابن کثیر) ذریعہ سے تمہارے لیے جھک جائیں گے ۔ انھوں نے پوچھا کہ وہ کلمہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم کہو کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور اس کے سوا تم جن کی عبادت کرتے ہو ان کو چھوڑ دو ( تقولون : لا اله الا الله وتخلعون ما تعبدون

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader