تاریخ دعوت
Urdu book, p. 220
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ کے مشرکین کو جب یہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ کے ساتھ حبش چلے گئے ہیں اور وہاں اطمینان کے ساتھ رہ رہے ہیں تو انھوں نے مشورہ کرکے اپنے دو آدمیوں (عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ) کو حبش کے بادشاہ نجاشی کے پاس بھیجا۔ انھوں نے وہاں جاکر شاہ نجاشی اور اس کے درباریوں کو تحفے پیش کیے اور کہا کہ ہمارے شہر کے کچھ نادان لوگ اپنا آبائی دین چھوڑ کر تمہارے یہاں آگئے ہیں۔ ان کو ہمارے حوالے کردو کہ ہم انہیں اپنے ساتھ واپس لے جائیں۔ یہ ایک طویل قصہ ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ شاہ نجاشی کے دربار میں مشرکین مکہ کے وفد کی باتوں سے متاثر ہوگئے اور انھوں نے شاہ سے یہ سفارش کی کہ مسلمانوں کو دوبارہ مکہ واپس بھیج دیا جائے۔ یہ ایک بے حد نازک لمحہ تھا۔ کیوں کہ واپسی کا مطلب بھیڑیوں کے منہ میں واپس جانا تھا۔ مگر اس نازک لمحہ میں جو چیز مسلمانوں کے کام آئی وہ وہی " دعوت " تھی جس کو یہ بے سرو سامان لوگ اپنے ساتھ لے کر وہاں گئے تھے۔ چنانچہ آخری مرحلہ میں یہ طے ہو کہ مسلمان نجاشی کے دربار میں حاضر ہوں اور بتائیں کہ وہ دین کیا ہے جو انہیں پیغمبر عربی سے ملا ہے۔ اس وقت حضرت جعفر بن ابی طالب کھڑے ہوئے۔ انھوں نے دربار میں ایک تقریر کی جو سیرت کی تمام کتابوں میں موجود ہے۔ اس کے بعد حضرت جعفر نے قرآن سے سورہ مریم کا ابتدائی حصہ پڑھ کر سنایا۔ روایات بتاتی ہیں کہ اس کو سن کر بادشاہ اور اس کے درباریوں کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ حتی کہ بادشاہ کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ اس کے بعد شاہ نجاشی نے حکم دیا کہ مشرکین مکہ کا وفد جو تحفے لایا تھا وہ اُسے واپس کر دیا جائے۔ اس نے مسلمانوں کو عزت کے ساتھ اپنے دربار سے رخصت کیا۔ ان کو امان دی اور مشرکین کے دونوں آدمی ذلیل ہوکر وہاں سے نکلے اور مسلمان وہاں اچھے مقام اور اچھے پڑوس میں ٹھہرے رہے ( ورد المسلمین رداً كريما وأمنهم وخرجا (عبد الله بن ابي ربيعة وعمرو بن العاص) من عنده مقبوحين ۔ فاقام المسلمون بخيردار مع خيرجاب) اسلام عمر بن الخطاب نبوت کے چھٹے سال تک مکہ کی ایک قابلِ لحاظ تعداد اسلام کے حلقہ میں داخل ہو چکی تھی مگر یہ لوگ زیادہ تر نیچے کے طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس لیے مکہ میں ابھی تک اسلام کا دبدبہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader