تاریخ دعوت
Urdu book, p. 219
By Maulana Wahiduddin Khan
من دونَه ) آپ جب مکہ میں حق کا پیغام لے کر اٹھے تو آپ ایک فی دنیا کی اقلیت رکھتے تھے۔ مگر بہت جلد عرب کے ذہین اور صالح افراد کو آپ کے کلمہ (بالمحافظ دیگر آپ کے فکر کی طاقت) نے کھینچ لیا۔ اگرچہ ابتدائی آپ کی شدید مخالفت کی گئی۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی واقعہ ہے کہ سنجیدہ اور صاحب فکر افراد کے لیے آپ کا پیغام اپنے اندر مقناطیسی کشش رکھتا تھا۔ مکہ کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے۔ طفیل بن عمرو الدوسی کعبہ کی زیارت کے لیے مکہ آئے۔ وہ اپنے قبیلہ کے معزز آدمی تھے۔ قریش کے کچھ لوگ ان سے ملے اور کہا کہ یہ شخص (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) ایک جادوگر آدمی ہے۔ تم ان کی بات نہ سننا اور ان سے دور رہنا۔ طفیل بن عمرو کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں ہیں۔ چنانچہ وہ وہاں گئے تو اپنے کانوں میں روئی ڈال لی تاکہ آپ کی آواز نہ سن سکیں۔ بعد کو انہیں خیال آیا کہ میں خود ایک سمجھ دار آدمی ہوں۔ مجھے کان میں روئی ڈالنے کی کیا ضرورت ہے ۔ مجھے محمد کا کلام سننا چاہیے۔ آخر میں کیوں ڈروں کہ میں ان کا کلام سن کر بھٹک جاؤں گا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور پورا قصہ انہیں بتایا۔ پھر کہا کہ آپ مجھے اپنا کلام سنائیے۔ آپ نے طفیل بن عمرو کو قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم وہ اتنا اچھا کلام تھا کہ اتنا اچھا کلام میں نے کبھی نہیں سنا تھا ۔ وہ ایسا منصفانہ امر تھا کہ ویسے منصفانہ امر سے میں ابھی تک واقف نہیں ہوا تھا ( فلا والله ما سمعت قولا قط احسن منه ولا امرأ اعدل منه ) اس کے بعد طفیل بن عمرو اسلام کے حلقہ میں داخل ہو گئے۔ ہجرت حبشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں جب کام شروع کیا، اس وقت وہاں شرک چھایا ہوا تھا۔ چنانچہ مکہ کے لوگوں نے آپ کی مخالفت شروع کر دی۔ جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ان کو طرح طرح سے ستایا جاتا۔ نبوت کے پانچویں سال آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ تم لوگ مکہ چھوڑ کر حبش چلے جاؤ۔ چنانچہ آپ کے ساتھیوں نے دوبار حبش کی جانب ہجرت کی۔ مجموعی طور پر ان کی تعداد تقریباً ۲۰ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader