تاریخ دعوت
Urdu book, p. 224
By Maulana Wahiduddin Khan
اس وقت مدینہ کے ایک نمایاں سردار اسید بن حضیر تھے۔ ان کو مدینہ میں اسلام کی اشاعت کی خبر ہوئی تو وہ اس پر غصہ ہو گئے۔ انھوں نے یہ سمجھا کہ مکہ کے کچھ لوگ یہاں آکر ہمارے کم سمجھ لوگوں کو بہکا رہے ہیں اور ان کے آبائی دین سے انھیں پھیر رہے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے گھر سے ہتھیار لے کر نکلے تاکہ ایسے لوگوں کو مار کر بھگا دیں۔ ان کی ملاقات ایک باغ میں مصعب بن عمیر سے ہوئی جو کچھ لوگوں کو اسلام کی باتیں بتا رہے تھے۔ اسید بن حضیر نے انھیں برا بھلا کہا اور کہا کہ تم یہاں اس لیے آئے ہو کہ ہمارے کمزور لوگوں کو ان کے دین سے پھیرو۔ مصعب بن عمیر نے کہا کہ آپ بیٹھے اور ہماری بات سنیے۔ اگر وہ صحیح ہو تو اس کو مان لیجیے، اور اگر صحیح نہ ہو تو اسے رد کر دیجیے۔ اسید بن حضیر نے کہا کہ تم نے انصاف کی بات کہی (انصفته) اس کے بعد وہ اپنا ہتھیار الگ رکھ کر بیٹھ گئے۔ مصعب بن عمیر نے ان کے سامنے قرآن کی آیتیں پڑھیں۔ اس کو سن کر اسید بن حضیر کا ذہن بدل گیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ کتنا اچھا اور کتنا حسین کلام ہے (ما احسن هذا و اجمله) اس کے بعد انھوں نے غسل کر کے اپنے کو پاک کیا اور کلمہ شہادت ادا کر کے اسلام میں داخل ہو گئے۔ تقریباً یہی واقعہ مدینہ کے دوسرے بڑے سردار سعد بن معاذ کے ساتھ پیش آیا۔ ان کو مدینہ میں اسلام کی اشاعت کی خبر ہوئی۔ ابتدا ء وہ بھی غصہ ہوتے۔ اور اپنا ہتھیار لے کر نکلے تاکہ ایسے لوگوں کو تنبیہ کر دیں۔ وہ مصعب بن عمیر کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا کہ آپ پہلے میری بات سنیے اس کے بعد کوئی فیصلہ کیجیے۔ اس کے بعد انھوں نے سعد بن معاذ کو قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا۔ راوی کہتے ہیں کہ قرآن کو سنتے ہی ہم نے ان کے چہرے پر اسلام کی جھلک دیکھی۔ ( فعرفنا والله في وجهه الاسلام ) اس کے بعد انھوں نے پوچھا کہ اس دین میں داخل ہونے کے لیے کیا کرنا ہوتا ہے۔ مصعب بن عمیر نے کہا کہ آپ غسل کیجیے اور اپنے کپڑوں کو پاک کیجیے اس کے بعد حق کی گواہی دیجیے پھر دو رکعت نماز پڑھیے۔ انھوں نے ایسا ہی کیا اور اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد دونوں سردار سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر اپنے قبیلہ کی طرف واپس آئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader