Urdu book · دین کامل

تاریخ دعوت

Urdu book, p. 225

By Maulana Wahiduddin Khan

اور لوگوں سے کہا کہ میرے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ ہمارے سردار ہیں اور ہمارے بہترین شخص ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تمہارے مردوں اور عورتوں سے بولنا میرے لیے اس وقت تک حرام ہے جب تک تم اللہ اور رسول پر ایمان نہ لاؤ۔ چنانچہ اسی دن شام تک ان کے قبیلہ کے تمام مرد اور عورت مسلمان ہوگئے۔ مدینہ کے قبائل اپنی سادہ فطرت پر تھے۔ ان کے اندر سلامت طبع کمال درجہ میں موجود تھی۔ وہ حق کو جان لینے کے بعد اس سے اعراض کرنا نہیں جانتے تھے۔ چنانچہ مدینہ کے قبائل میں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا۔ یہاں تک کہ انصار کے گھروں میں سے کوئی گھر نہ رہا جس میں کچھ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں موجود نہ ہوں۔ اس کے بعد حضرت مصعب بن عمیر مکہ واپس آئے۔ ان کے ساتھ ستر مرد اور دو عورتیں تھیں ۔ یہ لوگ حج سے فارغ ہوئے تو قرار داد کے مطابق ایک روز رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی جس کو بیعت عقبہ ثانیہ کہا جاتا ہے ۔ یہ واقعہ کافی تفصیل کے ساتھ سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ آخری مرحلہ میں جب آپ ان لوگوں سے بیعت لے رہے تھے تو ان میں سے ایک شخص (عباس بن عبادہ بن نضلہ) نے کہا کہ اے لوگو، تم جانتے ہو کہ تم کس چیز پر بیعت کر رہے ہو۔ یہ عرب و عجم کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، اگر ہم نے بیعت کا حق ادا کر دیا تو ہمارے لیے کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جنت ۔ انھوں نے کہا کہ ہاتھ بڑھائیے۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور انھوں نے بیعت کی (قالوا فئالنا بذلك يا رسول الله ان نحن وافينا قال الجنة ۔ قالوا ابسط يدك فنبايعه) التفسير المظہری ، المجلد الثانی ، صفحه ۱۲ - ۱۰۷ ہجرت مدینہ قدیم عرب میں آدمی قبیلہ کی حمایت میں زندگی گزارتا تھا۔ قبیلہ اس کی جان و مال کی حفاظت کا ضامن ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم کے قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے جس کے سردار اس وقت ابو طالب بن عبد المطلب تھے۔ نبوت کے دسویں سال ابو طالب کی وفات ہوگئی۔ اس کے بعد قبیلہ کے رواج کے مطابق سرداری کا عہدہ ابو لہب کو ملا۔ ابو لہب نے آپ کو اپنی حمایت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page