تاریخ دعوت
Urdu book, p. 232
By Maulana Wahiduddin Khan
سلجوق کے بعد طغرل بیگ (م ۱۰۶۳) اور الپ ارسلان (م ۱۰۶۳) وغیرہ اس کے وارث ہوئے ۔ تاریخِ اسلام کا یہ عظیم الشان واقعہ ہے کہ سلجوق ترک جو ابتدا ء وحشی قبائل تھے، انھوں نے اسلام قبول کر لیا اور ۲۰۰ سال سے زیادہ مدت تک اسلام کی پاسبانی کی ۔ انھوں نے شیعہ دستی لڑائیوں کو ختم کر کے اسلامی دنیا میں اتحاد پیدا کیا۔ انھوں نے بڑی بڑی مسجدیں اور مدرسے بنائے ۔ انھوں نے اسلام کے خلاف عیسائی حملوں کا طاقت ور دفاع کیا۔ ہماری تاریخی کتابوں میں سلاجقہ کے اس قسم کے کارنامے بہت ملیں گے مگر یہ کتابیں اس بارہ میں بالکل خاموش ہیں کہ سلجوق ترکوں نے کس طرح اور کس مرحلہ پر اسلام قبول کیا۔ اسلام کی مدون تاریخ کا یہ عظیم خلا ہے کہ اس میں جنگی واقعات اور سیاسی فتوحات کی داستانیں تو نہایت تفصیل کے ساتھ ملتی ہیں۔ مگر یہ کتابیں اس عظیم تر فتح کی تفصیلات سے ہمیں آگاہ نہیں کرتیں کہ اسلام نے کس طرح لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی ۔ اور کس طرح قومیں کی قو میں اسلام کے دائرے میں داخل ہوتی چلی گئیں۔ اسلامی تاریخ کی موجودہ کتابیں " دولت سلجوقیہ " کی تفصیلات بتاتی ہیں مگر وہ " اسلام سلجوقیہ " کی تفصیلات سے، ہمیں آگاہ نہیں کرتیں۔ پورے اسلامی لٹریچر میں غالباً تاریخِ دعوت کے موضوع پر ایک ہی قابلِ ذکر کتاب لکھی گئی ہے اور اس کتاب کے مصنف کا نام ٹی ڈبلیو آرنلڈ ہے۔ پروفیسر آرنلڈ مذکورہ واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : اپنے سیاسی زوال کے زمانہ میں اسلام نے اپنی بعض انتہائی شاندار روحانی فتوحات حاصل کی ہیں۔ دو بڑے تاریخی مواقع پر وحشی کافروں نے اپنے پاؤں محمد کے پیروؤں کے گردن پر رکھ دیئے تھے ۔ گیارھویں صدی عیسوی میں سلجوق ترکوں نے اور تیرھویں صدی عیسوی میں مغلوں نے ۔ مگر ہر بار فاتح نے اپنے مفتوح کے مذہب کو قبول کر لیا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader