Urdu book · دین کامل

تاریخ دعوت

Urdu book, p. 233

By Maulana Wahiduddin Khan

مغَل تاتاریوں کا قبولِ اسلام قدیم زمانہ میں ترکستان (روس) اور منگولیا (چین) کے علاقے میں کچھ قبائل آباد تھے جن کو ترک کہا جاتا تھا۔ ان کا ایک سردار چنگیز خاں (۱۱۶۲۔۱۲۲۷) تھا۔ یہ غیر معمولی صلاحیت کا آدمی تھا۔ وہ ۲۰ ہزار جنگجو افراد کو جمع کر کے اپنے علاقے سے نکلا اور فتوحات کرتا ہوا چین سے ایران تک پہنچ گیا ۔ اس کے بعد یہ قبائل آگے بڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ ہلاکو خاں (۱۲۶۵۔ ۱۲۱۲) اٹھا ۔ اس نے اسلامی سلطنت کو برباد کرنے کے بارہ میں اپنے دادا (چنگیز خاں) کے منصوبہ کو مکمل کیا۔ اس نے دارالسلطنت بغداد کو بالکل تباہ و برباد کر دیا اور خلیفہ مستعصم کو قتل کر ڈالا۔ تاتاری سرداروں کو مسلم حکمراں (خوارزم شاہ) سے کچھ شکایت پہونچی تھی ، اس بناء پر وہ غضب ناک ہوگئے اور مسلم سلطنت کو برباد کرنے کے درپے ہوگئے ۔ یہ اسلامی تاریخ کا سب سے زیادہ خوف ناک واقعہ تھا۔ تاتاریوں کے ظلم و فساد کی بناء پر اسلامی دنیا میں ان کا اتنا زیادہ ہول طاری ہوا کہ کہا جانے لگا : اذا قيل لك ان التتر انهزموا فلا تصدق (اگر کہا جائے کہ تاتاری شکست کھاگئے تو یقین مت کرنا) یہ ہولناک مسئلہ بھی دعوت ہی کے ذریعہ حل ہوا۔ تاتاری جب مسلمانوں کا خون پوری طرح بہا چکے تو ان کے انتقام کی آگ ٹھنڈی پڑ گئی۔ اب انھوں نے اپنی رعايا‘‘ کے مذہب پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا شروع کیا۔ مختلف طریقوں سے تاتاریوں کا سابقہ مسلمانوں کے ساتھ پیش آتا تھا۔ بے شمار مسلمان مرد اور عورتیں گرفتارہو کر ان کے گھروں پر پہنچیں، سڑکوں اور بازاروں میں مختلف اسباب کے تحت ایک تاتاری کی ملاقات ایک مسلمان سے ہوتی تھی۔ تاتاری حکمرانوں کے دربار میں مسلمان جاتے رہتے تھے۔ اس طرح مختلف طریقہ سے تاتاری لوگ اسلام کی تعلیمات سے آشنا ہوئے اور اس سے تعارف حاصل کیا۔ اس کے بعد ان کے اسلام قبول کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اولاً ان کے حکمرانوں اور سرداروں نے اسلام قبول کیا ۔ اس کے بعد عام تاتاریوں نے اس کی پیروی کی۔ یہاں تک کہ ان کی اکثریت اسلام کے دائرہ میں داخل ہوگئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جن لوگوں نے اسلام کی عمارت کو ڈھایا تھا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page