ایمانی برکتیں
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
زادته هذہ ایمانَا - فاما الذین آمنوا کہتے ہیں کہ اس سورہ نے تم میں سے کس کا ایمان فزاد تھم ایمانا واوھم يستبشرون - بڑھا دیا۔ پس جو ایمان والے ہیں ان کا ایمان اس ( التوبۃ ۱۲۴ ) نے بڑھا دیا اور وہ خوش ہو رہے ہیں ۔ قرآن میں خالق کا تعارف ہوتا ہے۔ انسان کے اندر چھپے ہوئے بندگی کے احساسات کو ابھارا جاتا ہے ۔ یہ چیزیں آدمی کے ذہن کو جگاتی ہیں ۔ وہ اس کے لاشعور کو شعور کی سطح پر لے آتی ہیں ۔ وہ اس کے اندر خالق و مخلوق کے تعلق کو زیادہ اجاگر کرتی ہیں ۔ اس طرح قرآن کو سن کر اور پڑھ کر آدمی کا شعور ایمان بڑھتا ہے اور برابر بڑھتا چلا جاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اپنے رب سے جا ملے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارہ میں روایات میں آتا ہے کہ وہ اپنے اصحاب میں سے ایک یا دو آدمی کا ہاتھ پکڑتے اور کہتے کہ آؤ ہم اپنے ایمان میں اضافہ کریں (کان عمر رضی اللہ عنہ یأخذ بید الرجل والرجلين من اصحابه فيقول تعالوا حتی نزداد ایماناً، منظری، رابع (۳۲۶) حضرت عبداللہ بن رواحہ کا ایک واقعہ امام بیہقی نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے : عن عطاء بن يسار - ان عبد الله بن رواحة عطار بن يسار کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن رواحہ نے اپنے قال لصاحبه تعال حتى نؤمن ساعة - قال ایک ساتھی سے کہا کہ آؤ ہم ایک گھڑی کے لیے ایمان أولستا بمؤمنين قال بلى - ولكنا نذكر لائیں۔ ساتھی نے کہا ، کیا ہم مومن نہیں ہیں۔ الله فنز داد ايماناً ۔ عبداللہ بن رواحہ نے کہا کہ ہاں۔ مگر ہم اللہ کو یاد کرتے ہیں تو ہم ایمان میں بڑھ جاتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ آؤ ہم بیٹھ کر اللہ کی بڑائی بیان کریں۔ ہم اللہ کے کمالات کو یاد کریں ۔ ہم اللہ کے آلاء (کردشموں) کا اجتماعی تذکرہ کریں ۔ اس سے اللہ کے بارہ میں ہمارا احساس تازہ ہوگا۔ اللہ کے بارے میں ہمارا یقین بڑھے گا ۔ اللہ کے بارہ میں ہماری معرفت مزید ترقی کرے گی ۔ صحابہ کرام میں یہ مزاج قرآن کے مطالعہ سے بنا تھا جو اپنے پڑھنے والے کو بار بار اکساتا ہے کہ وہ ذکر و فکر کے ذریعہ اپنے ایمان کو بڑھائے ۔ وہ اپنے ایمان کو مسلسل ترقی دیتا رہے ۔ رسول اللہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader