Urdu book · دین کامل

ایمانی برکتیں

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ آپ اہل ایمان کا تزکیہ کرنے ہیں، زیب دیکھیے، البقرۃ ۱۲۹، اس تزکیہ کا خاص پہلو یہی ہے۔ ابن جریر نے ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے: قال ابوذر: ولقد تركنا رسول الله صلّى الله حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم وما يقلب طائر جناحيه في السماء علیہ وسلم کو چھوڑا اور حال یہ تھا کہ ایک چڑیا بھی آسمان الا ذكر لنا منه علماً میں اپنا پر نہیں پھڑپھڑاتی تھی مگر آپ اس سے ہم کو ایک علم کی یاد دلاتے تھے۔ تفسیر ابن کثیر، جزز ۲، صفحه ۱۳۱ ذکر و فکر سے کس طرح ایمان بڑھتا ہے، اس کی ایک تازہ مثال لیجیے ۔ جدید معلومات کے مطابق ہماری دنیا نا قابلِ قیاس حد تک بڑی دنیا ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ یہ کائنات اتنی زیادہ بڑی ہے کہ ایک ہوائی جہاز اگر روشنی کی رفتار سے روانہ ہو ۔ یعنی اس کی رفتار ایک لاکھ ۸۶ ہزار میل فی سیکنڈ ہو تو اس نا قابلِ قیاس حد تک تیز رفتار جہاز کو کائنات کے گرد ایک چکر لگانے میں ایک ارب سال سے زیادہ لگ جائیں گے ۔ بشرطیکہ وہ جہاز اور اس کے مسافر اتنی لمبی مدت تک زندہ بھی رہیں ۔ اس عظیم کائنات میں بے شمار ستارے ہیں ۔ دنیا کے تمام سمندروں کے کنارے ریت کے جتنے ذرے ہیں اس سے بھی زیادہ آسمان میں ستاروں کی تعداد ہے ۔ یہ ستارے بے حد بڑے ہیں ۔ اتنے بڑے کہ ہماری زمین جیسی کروڑوں زمینیں کسی ایک ستارہ پر رکھ دی جائیں تب بھی اس کے اوپر جگہ باقی رہے گی ۔ صرف ہماری کہکشاں میں ۱۰۰۰۰ ملین ستارے پائے جاتے ہیں ۔ یہ تمام کے تمام ستارے آگ کے دہکتے ہوئے اتھاہ سمندر ہیں ۔ ان میں انسانی آبادی کسی طرح ممکن نہیں ۔ اس عظیم کائنات میں ایک ہی معلوم شمسی نظام ہے اور اس میں ہماری زمین جیسی ایک ہی زمین ہے ۔ ساری کائنات میں کوئی دوسرا معلوم کرہ نہیں جس میں پانی ہو، جس میں سبزہ ہو جس میں زندگی پائی جاتی ہو۔ جہاں وہ تمام چیزیں اور وہ تمام متوازن اسباب موجود ہوں جن سے تمدن کی تعمیر کی جاتی ہے ۔ اس طرح کی ان گنت معلومات ہیں جو موجودہ زمانہ میں ہماری دنیا کے بارہ میں حاصل ہوئی ہیں۔ اگر آدمی ان معلومات کو سامنے رکھ کر غور کرے تو خالق کی عظمت کے احساس سے اس کا دل دہل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page