تاریخ دعوت
Urdu book, p. 240
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر انسانی گروہ کا ایک نظامِ عقائد ہوتا ہے اور ایک اس کا نظام اقتدار۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان نظام اقتدار کے اعتبار سے دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے ہیں۔ لیکن نظام عقائد کے اعتبار سے آج بھی وہ تمام قوموں سے زیادہ طاقتور ہیں۔ مگر مسلمانوں کے قائدین ساری دنیا میں یہ کر رہے ہیں کہ وہ نظام اقتدار کے میدان میں دوسری قوموں سے ٹکرا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان کے حصہ میں شکست اور بربادی کے سوا اور کچھ نہیں آرہا ہے۔ اگر وہ اس بے فائدہ ٹکراؤ کو ختم کر دیں اور نظام عقائد کے میدان میں دوسری قوموں کو اپنا مخاطب بنائیں تو بہت جلد وہ دیکھیں گے کہ ان کی شکست کی تاریخ فتح کی تاریخ میں تبدیل ہو گئی ہے ۔ اسلام کو فکری طاقت کی حیثیت سے اٹھائیے۔ اس کے بعد وہ فکری اعتبار سے بھی دنیا پر غالب آجائے گا اور نتیجہ دوسرے اعتبارات سے بھی۔ ایک شخص کو الیفائڈ ڈاکٹر ہو۔ مگر وہ ڈاکٹری کرنے کے بجائے دادا گیری کرے ۔ وہ جلسہ جلوس کی دھوم مچائے تو اس کے تمام جاننے والے کہیں گے کہ ستم یہ کیسی نادانی کر رہے ہو ۔ تم کو پریکٹس کر کے باعزت زندگی گزارنا چاہیے ، تمہارے موجودہ مشاغل تو وقت اور قوت کو برباد کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ۔ یہی حال موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا ہے۔ مسلمان اصلاً ایک داعی گروہ ہیں ۔ ان کے پاس وہ سچائی ہے جو کسی دوسرے کے پاس نہیں ۔ تجارتی اصطلاح میں ، انھیں مذہب کے میدان میں ایک قسم کی اجارہ داری (Monopoly) حاصل ہے ۔ تمام اہلِ مذاہب میں وہ تنہا گروہ ہیں جن کے پاس بے آمیز مذہبی صداقت موجود ہے ۔ جن کا مذہب پورے معنوں میں تاریخی مذہب ہے ۔ جب کہ دوسرے تمام مذاہب غیر معتبر روایات کا مجموعہ ہیں ، اسلام کے سوا کسی بھی دوسرے مذہب کو تاریخ کی بنیاد حاصل نہیں ۔ اس اعتبار سے مسلمانوں کے لیے اہم ترین کرنے کا کام یہ تھا کہ وہ اپنے مذہب کو لے کر اٹھیں ۔ لیکن موجودہ زمانہ کے مسلمان سب کچھ کر رہے ہیں ، مگر اسی ایک کام سے انھیں کوئی رغبت نہیں ۔ مسلم ملکوں میں ان کا حال یہ ہے کہ اپنے حکمرانوں سے سیاسی لڑائیاں کر کے انھوں نے غیر ضروری طور پر ان کو اپنا دشمن بنالیا ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ تقریباً تمام مسلم ملکوں میں اسلامی دعوت کے مواقع برباد ہو کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader