میدانِ عمل
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
اب سارس نے سوچا کہ لومڑی نے تو مجھ کو بیوقوف بنا دیا۔ اس نے سوچ کر ایک نیا منصوبہ بنایا۔ اس نے لومڑی سے کہا کہ آؤ ہم لوگ پھر ایک مرتبہ مل کر کھیر پکائیں۔ لومڑی راضی ہوگئی۔ دونوں سامان لائے اور کھیر پکاتيار کی گئی۔ اب جب کھیر کو برتن میں رکھنے کا مرحلہ آیا تو سارس نے فوراً ایک صراحی پیش کر دی۔ چنانچہ کھیر سب کی سب صراحی کے اندر رکھ دی گئی۔ اب سارس نے اپنی لمبی چونچ صراحی کے اندر ڈال کر کھیر کو کھانا شروع کر دیا اور لومڑی سے کہا کہ تم بھی کھاؤ۔ مگر اس بار معاملہ الٹا ہوا۔ سارس نے خوب سیر ہو کر کھیر کھالی ، لومڑی کے حصہ میں کچھ نہ آیا۔ یہ لطیفہ بتاتا ہے کہ اصل مسئلہ مشترکہ کھیر پکانے کا نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ کھیر تیار ہو کر کس قسم کے برتن میں رکھی جائے گی۔ اگر وہ تشت میں رکھی جانے والی ہو تو وہ لومڑی کے حصہ میں چلی جائے گی اور اگر وہ صراحی میں رکھی جائے تو وہ سارس کو ملے گی ، آدمی کی عقل مندی یہ ہے کہ کھیر کو اپنے موافق برتن میں رکھنے کی کوشش کرے۔ یہ فرق کیوں انیسویں صدی کے نصف اول میں انگریز ایک طرف سیاسی اعتبار سے ہندوستان میں غلبہ حاصل کر رہے تھے۔ دوسری طرف عیسائی مشنریاں مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے لیے اپنی ساری طاقت صرف کر رہی تھیں۔ ہمارے علما ء ان دونوں خطرات کے مقابلہ کے لئے اٹھے اور اس کے لئے غیر معمولی قربانیاں پیش کیں۔ مگر دونوں محاذوں کا انجام ایک دوسرے سے مختلف رہا۔ سیاسی محاذ پر بے پناہ قربانیوں کے باوجود انہیں مکمل ناکامی ہوئی۔ دوسری طرف مشنری محاذ پر نسبتاً کم قربانی کے باوجود انہیں مکمل کامیابی حاصل ہوئی۔ دونوں محاذوں کے اس فرق کی علامت مولا نا رحمت اللہ کیرانوی (۱۳۰۸ - ۱۲۳۳ھ) ہیں ۔ مولا نا رحمت اللہ کیرانوی کے زمانہ میں یورپ سے پادری فنڈر (Funder) آیا اور اس نے ہندوستان کے مسلمانوں میں نہایت طاقت کے ساتھ مسیحیت کی تبلیغ شروع کر دی۔ اس کے مقابلہ کے لئے جو لوگ اٹھے، ان میں ایک ممتاز نام مولانا رحمت اللہ کیرانوی کا تھا۔ انھوں نے ’’ اظہار الحق‘‘ اور دوسری کتابیں لکھیں۔ اسی کے ساتھ انھوں نے ڈاکٹر وزیر خاں کی مدد سے فنڈر سے مناظرہ کیا۔ آگرہ کے مشہور مناظرہ (۱۰ - ۱۱ اپریل ۱۸۵۴) میں انھوں نے پادری فنڈر کو ایسی شکست دی کہ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader