Urdu book · دین کامل

میدانِ عمل

Urdu book, p. 245

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بعد وہ ہندوستان سے بھاگ کھڑا ہوا اور قسطنطنیہ (ترکی) میں جاکر پناہ ملی۔ اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے ۔ ۱۸۵۷ء میں شامی کے میدان میں علمائے نے انگریزی فوج کا مسلح مقابلہ کیا۔ اس مقابلہ میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی بھی شریک تھے ۔ اس وقت ہمارے علماء کے پاس روایتی قسم کے دستی ہتھیار تھے، اور انگریزی فوج کے پاس جدید قسم کے دور مار ہتھیار ۔ اس مقابلہ میں علماء کی جماعت کو ، زبردست قربانی کے باوجود ، مکمل شکست ہوئی۔ اس کے بعد علماء کی گرفتاریاں شروع ہوئیں اور ان کو پھانسی پر چڑھایا جانے لگا ۔ مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے ہندوستان سے چلے جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ مہیدب جنگلوں اور خطرناک راستوں پر پیدل چلتے ، موئے اور نا قابل بیان تکالیف اور مشقتیں برداشت کرتے ہوئے سورت کی بندرگاہ پر پہنچے ۔ وہاں سے سمندری جہاز پر سوار ہو کر جدہ چلے گئے اور بقیہ زندگی وہیں مقیم رہے (معارف مئی ۱۹۸۸) ان دونوں واقعات کو تقابلی طور پر دیکھئے ۔ ایک جگہ مولانا رحمت اللہ کیرانوی کے مقابلہ میں انگریز پا دری فنڈر میدان چھوڑ کر بھاگا تھا ، دوسری جگہ ” پادری فنڈر“ کے مقابلہ میں خود مولانا رحمت اللہ کیرانوی کو میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ اس فرق کی وجہ میدان کا مقابلہ کا فرق ہے۔ آگرہ میں دونوں کے درمیان مقابلہ مناظرہ فکری اور نظریاتی میدان میں ) ہوا تھا۔ فکری اور نظریاتی میدان میں اسلام ممتاز طور پر ہر ایک کے مقابلہ میں فوقیت رکھتا ہے ۔ اس لئے فریقِ ثانی کو مکمل ناکامی ہوئی ۔ اس کے برعکس شالی میں جو مقابلہ ہوا وہ فوج اور ہتھیار کے میدان میں تھا۔ اس میدان میں ہمارے علماء فریقِ ثانی کے مقابلہ میں فیصلہ کن طور پر پسماندہ تھے۔ ہمارے علماء کے پاس زیادہ تر دستی ہتھیار تھے، جب کہ فریقِ ثانی دور مار ہتھیاروں سے مسلح تھا ، یہی فرق تھا جس کی بنا پر یہاں علماء کو مکمل ناکامی ہوئی ۔ میں کہوں گا کہ آپ معاملہ پر زیادہ گہرائی کے ساتھ غور کیجئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہم میدان مقابلہ کو بدلنا چاہتے ہیں ۔ ہم فریقِ ثانی کو اس میدان میں لانا چاہتے ہیں جہاں وہ ناموافق پوزیشن میں ہو اور ہم موافق پوزیشن میں ۔ ہمارے اور دوسرے لوگوں میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کو اس میدان میں متحرک کرنا چاہتے ہیں جہاں ان کا حریف بھاگے ۔ اور دوسرے لوگ مسلمانوں کو وہاں ٹکرانا چاہتے ہیں جہاں بالآخر خود ان کو بھی بھاگنا پڑے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page