حکمت دعوت
Urdu book, p. 270
By Maulana Wahiduddin Khan
داعی کا مقام داعی کی حیثیت اور اس کا مقام سمجھنے کے لئے ایک حدیث کا مطالعہ مناسب ہوگا: عن ابی ذر رضی الله عنه قال قال رسول الله صلی الله عليه : انی اری مالاترون واسمع مالاتسمعون أطت السماء وحُقَّ لها ان تنطّ - ما فیها موضع أربع أصابع الا وملك واضع جبهته ساجداً لله تعالی - والله لو تعلمون ما اعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا وما تلذذتم بالنساء علی الفرش ـ ولخرجتم الى الصعدات تجأرون الى الله تعالى ۔ ه فی رواية انّ اباذر قال ، لوددت انی كنت شجرة تعضد (ترمذی ، ابن ماجه، احمد) حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور میں وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ آسمان میں چرچراہٹ ہو رہی ہے اور اس کے لئے حق ہے کہ اس میں چرچراہٹ ہو۔ آسمان میں کوئی چار انگل جگہ بھی نہیں مگر یہ کہ وہاں ایک فرشتہ اپنی پیشانی جھکائے ہوئے اللہ کو سجدہ کر رہا ہے۔ خدا کی قسم اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ اور بستروں پر تمہارے لئے عورتوں میں لذت نہ رہ جاتی۔ اور تم خدا کو پکارتے ہوئے میدانوں کی طرف نکل جاتے۔ ایک روایت کے مطابق، حضرت ابوذر نے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہا : میری تمنا ہے کہ میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا۔ اس حدیث میں پیغمبر کا جو حال بتایا گیا ہے وہی داعی کا حال ہوتا ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ پیغمبر اس کیفیت میں آخری کمال کے درجہ پر ہوتا ہے اور عام داعی اپنی اپنی استعداد کے درجہ پر۔ خدا کا داعی وہی شخص بن سکتا ہے جس کی معرفت اتنی بڑھی ہوئی ہو کہ غیب اس کے لئے شہود کا درجہ حاصل کرلے۔ جو اپنے تصور کی آنکھ سے ان چیزوں کو آج ہی دیکھ لے جن کو موت کے بعد ہر آدمی اپنی پیشانی کی آنکھ سے دیکھے گا۔ لوگ عالم ظاہر میں الجھے ہوتے ہیں پھر وہ عالم غیب کی خبر دینے والے کیسے بن سکتے ہیں۔ لوگ خدا سے دور ہیں پھر کیسے ممکن ہے کہ ان کی زبان سے معانی کا وہ چشمہ جاری ہو جو خدا سے قریب ہونے کے بعد ہی کسی کو حاصل ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader