حکمت دعوت
Urdu book, p. 269
By Maulana Wahiduddin Khan
لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اور اپنے ستانے والوں کے لیے دعا کرو۔ تاکہ تم اپنے باپ کے جو آسمان پر ہے بیٹے ٹھہرو کیوں کہ وہ اپنے سورج کو بدوں اور نیکوں دونوں پر چمکاتا ہے۔ اور راست بازوں اور ناراستوں دونوں پر مینہ برساتا ہے۔ کیوں کہ اگر تم اپنے محبت رکھنے والوں ہی سے محبت رکھو تو تمہارے لیے کیا اجر ہے۔ کیا محصول لینے والے بھی ایسا نہیں کرتے۔ اور اگر تم فقط اپنے بھائیوں ہی کو سلام کرو تو کیا زیادہ کرتے ہو۔ کیا غیر قوموں کے لوگ بھی ایسا نہیں کرتے۔ پس چاہیے کہ تم کامل ہو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامل ہے (متی ۵ : ۴۸ - ۴۴) حضرت مسیح کی اس تعلیم کی گہرائی کو جو لوگ نہیں سمجھتے وہ اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ وہ اس کو انفعالی کردار (Passive character) کے ہم معنی سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اس قسم کی انفعلیت قابل عمل نہیں۔ اس قسم کی انفعلیت کے ساتھ موجودہ دنیا میں رہنا ممکن نہیں۔ مگر یہ سراسر غلط نہی ہے۔ حضرت مسیح نے اپنے ان الفاظ میں داعی کا اخلاق بتایا ہے نہ کہ عام اخلاق۔ داعی کو اپنی بات دوسروں تک پہنچانی ہوتی ہے۔ وہ اپنی بات کو دوسروں کے دل میں اتار دینا چاہتا ہے۔ وہ دوسرے انسانوں کے اندر فکری انقلاب لانا چاہتا ہے۔ یہ بات اس وقت ممکن ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا ہو نہ کہ جھگڑے اور مقابلے کی فضا۔ یہ معتدل فضا دو طرفہ بنیاد پر کبھی قائم نہیں ہوسکتی۔ داعی اگر یہ چاہے کہ دوسرے لوگ ٹھنڈے ہوں تو وہ بھی ٹھنڈا رہے گا اور اگر دوسرے لوگ گرم ہو جائیں تو وہ بھی گرم ہو جائے گا تو ایسی حالت میں کبھی دونوں فریقوں کے درمیان سننے اور سنانے کی فضا قائم نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ داعی کو یکطرفہ طور پر یہ ذمہ داری لینی پڑتی ہے۔ وہ مدعو کے رویہ سے اوپر اٹھ کر یہ کوشش کرتا ہے کہ دونوں کے درمیان معتدل فضا قائم رہے۔ داعی اور مدعو کے درمیان جھگڑا اکثر کسی نہ کسی مادی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ حضرت مسیح کے وعظ کا خلاصہ یہ ہے کہ جب داعی اور مدعو کے درمیان کوئی مادی جھگڑا پیدا ہو تو داعی کو چاہیے کہ یک طرفہ طور پر مادی نقصان کو برداشت کر لے تاکہ دعوت کی راہ میں کوئی غیر متعلق رکاوٹ حائل نہ ہونے پائے۔ مدعو اگر داعی سے اس کا کرتا " چھینے تو داعی کو چاہیے کہ وہ کہے کہ تم کرتے کے ساتھ میرا " چغہ " بھی لے لو۔ البتہ میرے پیغام کو سنو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader