Urdu book · دین کامل

حکمت دعوت

Urdu book, p. 272

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کی تعلیم عام خیال کے برعکس ، اس معاملہ میں اسلام کی تعلیم بھی حضرت مسیح کی تعلیم سے مختلف نہیں ہے۔ داعی کا جو اخلاق حضرت مسیح نے بتایا ہے وہی خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تلقین فرمایا ہے۔ مثال کے طور پر صہیب بن سنان ایک رومی باشندہ تھے ۔ وہ مکہ میں کاریگری کا کام کرتے تھے ۔ انہوں نے اپنے کام کے ذریعے کچھ سونا کمایا تھا ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا تو وہ بھی مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے ۔ ان کی ہجرت پیغمبر اسلام کی ہجرت کے بعد ہوئی تھی ۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت صہیب مکہ سے مدینہ جانے کے لیے روانہ ہوئے ۔ وہ گھر سے نکلے تو قریش کے لوگوں نے ان کو گھیر لیا ۔ انہوں نے کہا کہ تم نے ہمارے یہاں رہ کر سونا کمایا ہے ہم اس سونا کو لے کر تمہیں مدینہ نہیں جانے دیں گے۔ اس مسئلہ پر دونوں کے درمیان بحث ہوئی ۔ آخر میں حضرت صہیب نے کہا کہ اگر میں اپنا سونا تمہیں دے دوں تو کیا تم مجھ کو چھوڑ دو گے کہ میں مدینہ جا کر پیغمبر اسلام کے ساتھ مل جاؤں۔ قریش کے لوگوں نے کہا کہ ہاں ۔ اس پر انھوں نے اپنا سونا نکال کر انھیں دے دیا اور آگے روانہ ہو گئے ۔ حضرت صہیب مدینہ پہوچ کر پیغمبر اسلام سے ملے اور وہ قصہ سنایا جو قریش کے ساتھ پیش آیا تھا۔ پیغمبر اسلام نے جب یہ سنا کہ حضرت صہیب دشمنوں کے مطالبے پر انھیں سونا دے کر یہاں آئے ہیں تا کہ اسلام کے قافلہ کے ساتھ مل سکیں تو وہ بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے فرمایا : اسے ابو یحییٰ ، تمہاری تجارت کامیاب رہی ( ربح البیع یا اها یحیی ) ابو یحییٰ حضرت صہیب کی کنیت تھی ۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کی زندگی میں اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جو داعیانہ اخلاق کی اس نوعیت کی تائید کرتے ہیں ۔ اس سلسلہ کا ایک نمایاں واقعہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کے وہ ساتھی جو مہاجرین کہے جاتے ہیں وہ اپنے مکان اور جائیداد کو مکہ میں چھوڑ کر مدینہ چلے گیے تھے جس کو ہجرت کہا جاتا ہے ۔ ہجرت کے آٹھ سال بعد مکہ فتح ہوا ۔ مگر فتح کے باوجود پیغمبر اسلام نے اپنے ساتھیوں کو یہ اجازت نہ دی کہ وہ اپنے چھوڑے ہوئے مکانوں اور جائیدادوں پر دوبارہ قبضہ کریں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page