Urdu book · دین کامل

حکمت دعوت

Urdu book, p. 273

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ مکانات اور جائدادیں اس وقت خالی پڑی ہوئی نہ تھیں بلکہ ان پر مکہ کے ان لوگوں نے قبضہ کر لیا تھا جو ابھی تک اسلام نہیں لائے تھے ۔ حتی کہ بعض مکانات کو ان نئے قبضہ کرنے والوں نے کسی اور شخص کے ہاتھ فروخت کر دیا تھا۔ پیغمبرِ اسلام یہ چاہتے تھے کہ انھیں اسلام کی دعوت دی جائے اور ان کو اسلام کے دائرہ میں لایا جائے۔ ایسی حالت میں اگر لوگ اپنے سابقہ مکانوں اور جائدادوں پر قبضہ کرنے لگتے تو دونوں فریقوں کے درمیان زبردست مادی جھگڑے کھڑے ہو جاتے۔ ان مادی جھگڑوں کی وجہ سے ان کے اوپر دعوت کا کام ٹھپ ہو کر رہ جاتا۔ یہی دعوتی حکمت تھی جس کی بنا پر پیغمبرِ اسلام نے اپنے ساتھیوں (مہاجرین) کو یہ اجازت نہ دی کہ وہ مکہ کے غیر مسلموں سے اپنی سابقہ مکانوں اور جائدادوں کو واپس لینے کا مسئلہ کھڑا کریں۔ قرآن میں داعیانہ اخلاق کے تمام بنیادی اصول نہایت واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ ان بنیادی اصولوں کا یہاں ہم اختصار کے ساتھ ذکر کریں گے۔ صبر کا طریقہ اس سلسلے میں قرآن کے ایک ٹکڑے کا ترجمہ یہ ہے : اور اس شخص کی بات سے اچھی بات کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں ۔ اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ۔ تم بدی کو اچھے برتاؤ سے دفع کرو، پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس شخص میں دشمنی تھی وہ ایسا ہو گیا ہے جیسے کوئی قریبی دوست ، اور یہ بات انھیں لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور یہ مقام انھیں کو ملتا ہے جو بڑے نصیب والے ہیں اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگو ، بے شک وہ سننے والا، جاننے والا ہے ، حم السجدہ ۳۶-۳۳ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے پیغام کا داعی بننے کے لیے صالح ہونا بہت ضروری ہے۔ یہاں صالح کا مفہوم وہی ہے جس کے لیے ہم اپنی زبان میں موافق کا لفظ بولتے ہیں ۔ آدمی جس چیز کا داعی ہے۔ اسی کے مطابق اس کا اخلاق و کردار بھی ہونا چاہیے ۔ اسی کو عمل صالح کہتے ہیں ۔ داعی حقیقت وہ ہے جو اپنی دعوت کے حق میں اتنا زیادہ سنجیدہ ہو کہ وہی اس کے نزدیک سب سے زیادہ اہم چیز بن جائے ۔ اس کی نظر میں دعوت کی اہمیت اتنی زیادہ ہو کہ ہر دوسری چیز اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page