تعمیر ملّت
Urdu book, p. 278
By Maulana Wahiduddin Khan
تعمیر ملت ہماری اس وقت کی گفتگو کا موضوع تعمیر ہے۔ اس سلسلہ میں جاننے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں تخریب کے درمیان تعمیر کرنی پڑتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کوئی شخص یا کوئی قوم تنہا نہیں ہے۔ ہر شخص اور ہر قوم جو اس دنیا میں ہے وہ دوسرے اشخاص اور دوسری قوموں کے درمیان ہے۔ اس صورت حال نے موجودہ دنیا کو مقابلہ کی دنیا بنا دیا ہے۔ یہاں بار بار ایک کو دوسرے سے جھٹکا لگتا ہے۔ یہاں ہر گروہ دوسرے گروہ کو دھکیل کر آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ مقابلہ کا یہ نظام خدائے ذوالجلال نے بنایا ہے۔ یہ نظام خود خالق کائنات کا قائم کردہ ہے۔ اس لیے یہ یقینی ہے کہ ہم اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتے۔ ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ اس کو جانیں اور اس کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ اس دنیا میں بہر حال ایسا ہو گا کہ جو مچھلی چھوٹی ہوگی اس کو بڑی مچھلی نگلنے کی کوشش کرے گی ۔ اب چھوٹی مچھلی کے لیے بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اتنا بڑھا لے کہ وہ بڑی مچھلی کے منہ میں نہ آسکے ۔ زندگی کی اسی خاص نوعیت کی بنا پر اس دنیا میں کامیابی کو صبر کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے قرآن وحدیث میں بہت زیادہ صبر کی تاکید کی گئی ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ( اِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِينَ) خدا کی مدد انہیں لوگوں کو ملتی ہے جو صبر کریں۔ (إِعْلَمُ اَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ) یہ صبر کوئی بزدلی کا فعل نہیں۔ صبر اعلیٰ ترین مثبت عمل ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی ناخوش گوار صورت حال سامنے آئے تو آدمی رد عمل کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو۔ وہ اچانک بھڑک کر کوئی اقدام نہ کرے۔ حالات کتنے ہی زیادہ ناموافق ہوں وہ اپنے کو تھامے ۔ وہ حالات میں گھیر کر سوچنے کے بجائے حالات سے الگ ہو کر سوچے ۔ اس طرح غیر متاثر ذہن کے تحت جو عمل کیا جائے اسی کا نام شریعت کی اصطلاح میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader