Urdu book · دین کامل

تعمیر ملّت

Urdu book, p. 279

By Maulana Wahiduddin Khan

صبر والاعمل ہے ۔ اور جو عمل اس کے خلاف ہو اس کا نام عجلت والاعمل ۔ ایک تاریخی واقعہ ایران حضرت عمر فاروق رضی کے زمانہ خلافت میں فتح ہوا ۔ اس وقت ایران کی مسلم افواج کے سپہ سالار سعد بن ابی وقاص رضی تھے ۔ ابتدائی جنگ میں ایرانیوں کا کافی نقصان ہوا ۔ انہوں نے لڑائی کو اپنے حق میں غیر مفید سمجھتے ہوئے گفت و شنید کی پیش کش کی ۔ حضرت سعد اس وقت قادسیہ کے میدان میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔ انہوں نے مختلف منتخب افراد کو ایرانی سپہ سالار رستم اور ایران کے بادشاہ یزدگرد کے دربار میں بھیجا ۔ مسلمانوں کے یہ نمائندے نعمان بن مقرن فرات بن حیان ، حنظلہ بن ربیع ، عطارد بن حاجب ، اشعث بن قیس ، مغیرہ بن شعبہ عمرو بن معد یکرب و غیره تھے ۔ ( البدایہ والنہایہ ) البدایہ والنہایہ میں ان سفارتوں کی کافی لمبی تفصیل درج ہے ۔ آخری مرحلہ میں یہ واقعہ ہوا کہ حضرت مغیرہ اور ان کے ساتھی شہنشاہ یزدگرد کے دربار میں آئے۔ یہ دربار ایران کے قدیم شہر مداین میں تھا۔ وہاں کے زرق برق ماحول سے وہ مطلق متاثر نہیں ہوئے اور بادشاہ اور اس کے درباریوں کے سامنے انتہائی بے خوئی کے ساتھ تقریر کی۔ اس پر یزدگرد برہم ہو گیا۔ اس نے کہا کہ تم فقیر ہو کر شہنشاہ وقت کے سامنے ایسی باتیں کر رہے ہو۔ اگر یہ قاعدہ نہ ہوتا کہ ایلچی قتل نہ کئے جائیں تو میں ضرور تم کو قتل کر دیتا ۔ تم لوگ واپس جا کر اپنے امیر کو بتا دو کہ میں سپہ سالار رستم کی سرکردگی میں ایسا لشکر بھیجے والا ہوں جو تم سب کو قادسیہ کے خندق میں دفن کر دے گا۔ اس کے بعد یزدگرد نے اپنے ملازمین کو حکم دیا کہ ایک ٹوکری میں مٹی بھر کر لاؤ۔ جب مٹی کی ٹوکری لائی گئی تو اس نے مسلمانوں کے وفد سے مخاطب ہو کر پوچھا ۔ تم میں سب سے زیادہ شریف کون ہے ۔ وفد کے افراد چپ رہے۔ اس کے بعد عاصم بن عمرو آگے بڑھے اور کہا کہ میں سب سے زیادہ شریف ہوں۔ یزدگرد نے اسلامی وفد کے دیگر ارکان سے پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی ۔ یزدگرد نے حکم دیا کہ مٹی کی ٹوکری عاصم بن عمرو کے سر پر رکھ دی جائے اور ان کو دربار سے نکال کر سمجھا دیا جائے ۔ یہاں تک کہ وہ مداین کے باہر چلے جائیں ۔ چنانچہ مٹی کی ٹوکری عاصم بن عمرو کے سر پر رکھ دی گئی۔ وہ اس کو لے کر مداین کے شاہی محل سے نکلے اور اونٹنی پر سوار ہو کر تیزی سے قادسیہ کی طرف روانہ ہوئے جہاں حضرت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page